30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے: (۱)…ایک تہائی عذاب غیبت کی وجہ سے (۲)…ایک تہائی پیشاب (کے چھینٹوں سے خود کونہ بچانے) کی وجہ سے اور (۳)…ایک تہائی چغلی کی وجہ سے ہوتا ہے۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی(متوفی۱۱۰ھ) ارشاد فرماتے ہیں : ’’غیبت بندۂ مومن کے ایمان میں اس سے بھی جلدی فساد پیدا کرتی ہے جتنی جلدی آکلہ(یعنی اعضاء کو کھا جانے والی ) بیماری اس کے جسم کوخراب کرتی ہے۔‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’اے ابن آدم! تم اس وقت تک ایمان کی حقیقت کو نہیں پا سکتے جب تک کہ لوگوں کے ان عیوب کو تلاش کرنا ترک نہ کر دو جو خود تمہارے اندر پائے جاتے ہیں ، یہاں تک کہ تم اپنے عیوب کی اصلاح شروع کردو اور اپنے آپ سے ان عیبوں کو دور کرلو۔ پس جب تم ایسا کر لو گے تو یہ چیز تمہیں اپنی ہی ذات میں مشغول کر دے گی اور اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک ایسا بندہ سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔‘‘ (۲)
ایک بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :’’ہم نے اسلاف (یعنی گزشتہ بزرگوں )کو دیکھا کہ وہ حضرات لوگوں کی بے عزّتی کرنے سے بچنے کو نَماز روزے سے بڑھ کر عبادت تصوُّر کیا کرتے تھے۔‘‘ (۳)
حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا فرمان ہے: ’’جب تو کسی کے عیوب بیان کرنے کا ارادہ کرے تو اپنے عیوب یا د کر لیا کر۔‘‘ (۴)
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ’’تم اپنے بھائی کی آنکھ کا تنکا تو دیکھتے ہو مگر اپنی آنکھ کا شہتیر نہیں دیکھتے۔‘‘ (۵)
حضرت سیِّدُنا علی بن حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے کسی شخص کو غیبت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا:’’غیبت سے بچو، کیونکہ یہ انسانی کتوں کا سالن ہے۔‘‘ (۶)
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں :’’تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر لازم ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا،کتاب الغیبۃ والنمیمۃ ،باب الغیبۃ وذمہا ،الحدیث:۵۲،ج۴،ص۳۵۵۔
2…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا،کتاب الغیبۃ والنمیمۃ ،باب الغیبۃ وذمہا ،الحدیث:۵۴ ، ۶۰،ج۴،ص۳۵۶،۳۵۹۔
3…المرجع السابق،الحدیث:۵۵،ص۳۵۷۔ 4…المرجع السابق،الحدیث:۵۶،ص۳۵۷۔
5 …احیاء علوم الدین ،کتاب آفات اللسان ،الآفۃ الخامسۃ عشرۃ الغیبۃ ،ج۳،ص۱۷۷۔
6…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا،کتاب الغیبۃ والنمیمۃ ،باب کفارۃ الاغتیاب ،الحدیث:۱۶۱،ج۴،ص۴۲۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع