30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُٹھوانے والے، پلانے اور جسے پلائی جائے، سب پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘ (۱)
احادیث ِ مبارکہ کے مذکورہ مجموعہ سے عنوان میں ذکر کردہ میرا مؤقف واضح ہوگیا نیز اکثر شافعی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے بھی ان کے کبیرہ گناہ ہونے کی تصریح کی ہے۔
حضرت سیِّدُناعلامہ صلاح الدین علائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ ( متوفی۷۶۱ھ)فرماتے ہیں : ’’شافعی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس بات پر دلیل قائم فرمائی ہے کہ شراب بیچنا کبیرہ گناہ ہے اور اس کا عادی فاسق ہے۔ شراب خریدنے، اس کی کمائی کھانے، اسے اُٹھانے اور پلانے کا بھی یہی حکم ہے۔ البتہ! اسے بنانے اور بنوانے والے کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ اس وجہ سے فاسق نہ ہو گا۔‘‘
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ مزید فرماتے ہیں : ’’فسق کا حکم اس کی نیت کے ساتھ مشروط ہونا چاہئے یعنی اگر شراب بنانے یا بنوانے والے نے اس سے شراب کی نیت کی تو حدیث ِ پاک میں وارد وعید کے تحت داخل ہو گا اور اگر شراب کے علاوہ کسی اور چیز (مثلاًسِرکہ)کی نیت ہو تو اس کے تحت داخل نہ ہو گا۔ ‘‘ حضرت سیِّدُنا ابنِ صبَّاغ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے نقل فرمایا کہ ’’شراب کا محض رکھنا کبیرہ گناہ نہیں بلکہ اسے سرکہ میں بدلنے کے لئے رکھنا جائز ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ماوَرْدِی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :’’شراب کو سرکہ بنانے کے لئے رکھنا حرام نہیں لیکن اگر اس نے شراب کو اسی حالت پر ذخیرہ کرنے کا ارادہ کیا تو فاسق ہو جائے گا۔‘‘ اور قصد کے معنی سے جس طرف ہم نے اشارہ کیا ہے یہ اس کے مطابق ہے۔
حضرت سیِّدُنا جلال الدین بُلْقِیْنِی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’قصد سے جس طرف علامہ صلاح الدین علائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ ( متوفی۷۶۱ھ) نے اشارہ کیا ہے وہ صحیح ہے اور اگر شراب بنانے سے کوئی ارادہ ہی نہ ہو یا سرکہ بنانے کا ارادہ ہو توحرام نہیں۔‘‘
حاصلِ کلام:
حاصلِ بحث یہ ہے کہ حرمت کے علم کے باوجود جان بوجھ کر شراب یا نبیذ کی معمولی مقدارپینا اگرچہ پکی ہوئی ہو، کبیرہ گناہ ہے، یہی حکم بلا حاجت اسے بیچنے اور خریدنے کا ہے مثلاً دوا کے طور پر یا سرکہ بنانے کے ارادے سے ایسا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المستدرک، کتاب البیوع، باب ان اﷲ لعن الخمر…الخ،الحدیث:۲۲۸۱،۲۲۸۲،ج۲،ص۳۳۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع