30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ قول ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں : ’’اس میں غور وفکر کی ضرورت ہے کیونکہ میرے خیال کے مطابق اصحابِ مذہب ِ(یعنی شافعی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام) نے اسے جائز قرار نہ دیا بلکہ وہ تو فرماتے ہیں کہ اس کا ایک قطرہ پینا بھی کبیرہ گناہ ہے حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ اس سے نشہ نہیں آتا۔‘‘ حضرت سیِّدُنا امام اَذْرعی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی کا مذکورہ قول واضح ہے۔ مگر یہ اس شخص کے متعلق ہے جو شراب کی حرمت کا عقیدہ رکھے جبکہ اسے حلال سمجھنے والے کے متعلق حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی فرماتے ہیں : ’’میں اسے حد لگاؤں گامگر اس کی گواہی قبول کروں گا۔‘‘ اس کی وضاحت گزر چکی ہے اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـیْہسے یہ بھی منقول ہے کہ جس کا عقیدہ ہو کہ شراب پیناکبیرہ گناہ نہیں (اس کو بھی حد لگے گی ) اس بنا پر کہ حضرت سیِّدُنا امام رافِعی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِینے حضرت سیِّدُنا رُویانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے جو نقل کیا اسی کی مثل حضرت سیِّدُناقاضی ابو سعید ہرویعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے بھی ذکر کیا لیکن ان کے برعکس حکم لگایا اور ان میں سے کسی کو ترجیح نہ دی اور کبیرہ گناہوں کو شمار کرتے ہوئے فرمایا کہ شراب اور اس کے علاوہ دیگر نشہ آور اشیاء کو پینا کبیرہ گناہ ہے اور دیگر نشہ آور چیزوں کی تھوڑی مقدار پینے میں اختلاف ہے جبکہ پینے والاشافعی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ مذکورہ بحث میں زیادہ راجح قول یہی ہے کہ شراب کا ایک قطرہ پینا بھی کبیرہ گناہ ہے۔
حضرت سیِّدُنا حَلِیمِی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا یہ قول بھی رد کر دیا گیا ہے کہ’’شراب پینا کبیرہ گناہ ہے، اگر اتنی کثرت سے پئے کہ نشہ چھا جائے یا ہذیان بکنے لگے تو یہ فحش کام ہے اور اگر کسی نے شراب میں اس کے برابر پانی ملایا جس سے اس کی شدَّت اور نقصان ختم ہو گیاتو یہ صغیرہ گناہ ہے۔‘‘ بلکہ صحیح قول وہ ہے جو حضرت سیِّدُنا جلال الدین بلقینی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کا ہے کہ’’حضرت سیِّدُناحَلِیمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے مذکورہ قول کے برخلاف ہمارے اصحاب(یعنی شافعی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام) اسے جائز قرار نہیں دیتے بلکہ یہ لازمی طور پر کبیرہ گناہ ہے۔‘‘
(کتاب کی ابتدا میں )حضرت سیِّدُنا ابنِ عبدُ السلام عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ السَّلَامکے حوالے سے کبیرہ گناہ کی تعریف گزر چکی ہے: ’’کبیرہ گناہ وہ ہے جس کے مرتکب سے دین کو ہلکاجاننا اس طرح ظاہر ہو کہ وہ منصوص علیہ(یعنی قرآن وحدیث سے ثابت) سب سے چھوٹے کبیرہ گناہ کو حقیر جانے۔‘‘اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے اس تعریف کو دلائل سے ثابت کیا یہاں تک کہ ارشاد فرمایا: ’’اس تعریف کی بنا پر ہر وہ فعل جس کے متعلق معلوم ہو کہ اس کا فساد اس فعل کے فساد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع