30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تنبیہ:
ایک قطرۂ شراب پینے کا حکم:
مذکورہ تمام گناہوں کو کبیرہ گناہوں میں شما ر کیا گیا ہے اور یہ مذکورہ اور آئندہ آنے والی احادیث ِ مبارکہ سے اچھی طرح واضح ہے۔اس کا حکم یہ ہے کہ شراب کا ایک قطرہ پینا بھی اجماعاً کبیرہ گناہ ہے۔ یہی حکم دیگر نشہ آور چیزوں کا ہے اور غیر نشہ آور چیزوں میں اختلاف ہے کہ کیا ان کا ایک قطرہ پینا کبیرہ گناہ ہے یا نہیں ؟ شوافع کے نزدیک یہ بھی کبیرہ گناہ ہے۔ اور شراب کو ’’اَکْبَرُ الْکَبَائِر‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ چنانچہ،
سب سے بڑا گناہ:
{76}… حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے شراب کے متعلق پوچھا تو آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’یہ سب سے بڑا گناہ اور تمام برائیوں کی جڑہے، شراب پینے والا نمازچھوڑ دیتا ہے اور اپنی ماں ، خالہ اورپھوپھی سے بدکاری کا مرتکب ہوجاتا ہے ۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا رُویَانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کا کلام تقاضا کرتا ہے کہ ’’شراب کے علاوہ کسی دوسری چیز کا پینا اس صورت میں کبیرہ گناہ ہے جبکہ وہ نشہ لائے۔ ‘‘ لیکن اسے رد کردیا گیا ہے کیونکہ شوافع کے نزدیک مشہور یہی ہے کہ نشہ آور چیز کی غیر نشہ آور مقدار بھی شراب کے تحت داخل ہے اور یہ قیاسی طور پر لغت سے ثابت ہے اور شافعی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک اس مقدار میں بھی حد (یعنی مقررہ سزا) ہے یعنی حد اس بات کی قطعی علامت ہے کہ یہ (حد) جس چیز پر لگائی جائے وہ کبیرہ گناہ ہے۔ حضرت سیِّدُنا رُویَانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے کلام پر حضرت سیِّدُنا امام رافِعی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَای کاسکوت اختیار کرنا کمزور بات ہے۔
اسی طرح حضرت سیِّدُنا حَلِیمِیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اگر کسی نے شراب میں اس کے برابر مقدار میں پانی ملایا اور اس کی شدَّت ختم ہو گئی پھر اس نے پی لی تو یہ صغیرہ گناہ ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا امام اَذْرَعی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…مججع الزوائد ،کتاب الاشربۃ ، باب ماجاء فی الخمر، الحدیث: ۸۱۴۷ ،ج۵، ص۱۰۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع