30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عزت کی حفاظت کی اللہ عَزَّوَجَلَّقیامت کے دن اس سے جہنم کا عذاب دور فرما دے گا۔‘‘ اس کے بعد آپ صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیت ِ مبارکہ تلاوت فرمائی:وَکَانَ حَقًّا عَلَیۡنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۴۷﴾ (پ۲۱، الروم:۴۷)
ترجمۂ کنزالایمان:اورہمارے ذمۂ کرم پرہے مسلمانوں کی مدد فرمانا۔ (۱)
{52}…حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔمُکَرَّم،نُورِمجسَّمصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے دُنیا میں اپنے بھائی کی عزت کی حفاظت کی اللہ عَزَّوَجَلَّقیامت کے دن ایک فرشتہ بھیجے گا جو جہنم سے اس کی حفاظت فرمائے گا۔‘‘ (۲)
{53}… رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدمصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’جس کے سامنے اس کے مسلمان بھائی کی غیبت کی گئی اور وہ اس کی مدد کرنے(یعنی غیبت سے روکنے) کی استطاعت رکھتا تھا اور اس کی مدد کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّدنیا و آخرت میں اس کی مدد فرمائے گا، لیکن اگر اس نے اس کی مدد نہ کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّاسے دنیا و آخرت میں ذلیل کرے گا۔‘‘ (۳)
{54}… حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمتصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جو کسی مسلمان کو ایسی جگہ ذلیل ورسوا کرے گا جہاں اس کی عزَّت کی جاتی ہو تاکہ اس کی عزت ختم ہوجائے تو اللہ عَزَّوَجَلَّاسے ایسی جگہ ذلیل ورسوا کرے گا جہاں وہ اس کی مدد چاہتا ہو گا اور جو کسی مسلمان کی ایسی جگہ مدد کرے جہاں اس کی عزَّت گھٹائی جا رہی ہو اوراس کی حرمت کا خیال نہ رکھا جا رہا ہو تواللہ عَزَّوَجَلَّاس کی ایسی جگہ پر مدد فرمائے گا جہاں اُسے مددِ الٰہی درکار ہو گی ۔‘‘ (۴)
غیبت کی مذمّت میں بُزرگانِ دین کے فرامین
حضرت سیِّدُناقتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :’’ہمیں بتایا گیا ہے کہ عذابِ قبر کو 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الترغیب والترھیب ،کتاب الادب وغیرہ،باب الترھیب من الغیبۃ…الخ،الحدیث:۳۴۷۱،ج۳،ص۴۰۸۔
2…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا،کتاب الغیبۃ، باب ذب المسلم عن عرض أخیہ، الحدیث:۱۰۵،ج۴،ص۳۸۵۔
3…الکامل فی ضعفاء الرجال، الرقم۲۰۳ابان بن ابی عیاش، ج۲، ص۶۴’’أذلہ‘‘بدلہ’’أدرکہ‘‘۔
4…سنن ابی داود،کتاب الادب،باب الرجل یذب عن عرض اخیہ، الحدیث:۴۸۸۴،ص۱۵۸۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع