30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شراب پینا ہے۔‘‘ میں نے واپس آ کر یہ بات بتائی تو انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا اور فوراً ان کی طرف چل پڑے یہاں تک کہ سب ان کے گھرپہنچ گئے تو حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر ورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے انہیں بتایا کہ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’بنی اسرائیل کے کسی بادشاہ نے ایک شخص کو پکڑ لیا اور اسے اختیار دیا کہ وہ شراب پئے یا کسی کو قتل کرے یا زنا کرے یا خنزیر کا گوشت کھائے ورنہ وہ اسے قتل کر دیں گے، چنانچہ اس نے شراب پینا اختیار کر لیا۔ جب اس نے شراب پی لی تو اس نے وہ تمام کام کئے جو وہ اس سے کروانا چاہتا تھا۔‘‘ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مزید ارشاد فرمایا:’’جوشخص شراب پیتا ہے چالیس راتوں تک اس کی نماز قبول نہیں کی جاتی،اور جو شخص اس حالت میں مرے کہ اس کے پیٹ میں شراب ہو تو اس کی وجہ سے اس پر جنت حرام کر دی جائے گی، پس اگر وہ ان چالیس راتوں میں مرا تو جاہلیت کی موت مرا۔‘‘ (۱)
شراب نے کیا گُل کِھلائے:
{43}…حضورنبی ٔمُکَرَّم،نُورِ مجسَّمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں : برائیوں کی اصل (یعنی شراب) سے بچو کیونکہ تم سے پہلے ایک شخص تھا جو اللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت کیا کرتا اور لوگوں سے الگ تھلگ رہتا، ایک عورت اس کی محبت میں گرفتار ہو گئی اور اس کی طرف خادم کو کہلابھیجا کہ ہم تمہیں گواہی کے لئے بلارہے ہیں۔ چنانچہ وہ وہاں پہنچ گیا۔جب بھی وہ کسی درواز ے سے اندرداخل ہوتا تو وہ اس پر بند کر دیا جاتا یہاں تک کہ وہ ایک نہایت حسین وجمیل عورت کے پاس پہنچا جس کے قریب ایک لڑکا کھڑا تھا اوروہاں شیشے کاایک بڑا برتن تھا جس میں شراب موجود تھی۔ اس عورت نے عابد سے کہا:’’میں نے تجھے کسی قسم کی گواہی دینے کے لئے نہیں بلایا بلکہ اس لئے بلایا ہے کہ تو اس لڑکے کو قتل کر کے مجھ سے زنا کرے یا پھر شراب کا ایک جام پی لے، اگر تو نے انکار کیا تو میں واویلا کروں گی اور تجھے ذلیل ورسوا کر دوں گی۔‘‘ جب اس شخص نے دیکھا کہ اس کے پاس اس سے چھٹکارے کی کوئی راہ نہیں تو اس نے کہا: ’’مجھے شراب کا گلاس پلا دے۔‘‘ عورت نے شراب کا ایک جام پلایا تو اس نے مزید مانگا، پس وہ اسی طرح شراب پیتا رہا یہاں تک کہ اس عورت کے ساتھ منہ بھی کالا کیا اور لڑکے کو بھی قتل کر دیا۔لہٰذا تم شرا ب سے بچتے رہو، بلاشبہ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم! ایمان اور شراب نوشی د ونوں کسی شخص کے سینے میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے،ہاں ! عنقر یب ایک دوسرے کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المستدرک ،کتاب الاشربۃ، باب ان اعظم الکبائر شرب الخمر، الحدیث:۷۳۱۸ ،ج۵، ص۲۰۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع