30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے جبڑے کی ہڈی لی اور حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے سر پر دے ماری، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہشدید زخمی ہو گئے اور سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اس انصاری کی شکایت کی تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بارگاہِ رب العزت میں عرض کی:’’یااللہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں شراب کے بارے میں واضح حکم بیان فرما دے۔‘‘ پس اللہ عَزَّوَجَلَّنے یہ حکم نازل فرما یا:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزْلٰمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجْتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴿۹۰﴾ اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الْعَدٰوَۃَ وَالْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیۡسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنۡ ذِکْرِ اللہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ ۚ فَہَلْ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ ﴿۹۱﴾ (پ۷، المائدۃ:۹۰،۹۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ، شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔
یہ حکم غزوۂ اَحزاب کے کچھ دن بعد نازل ہوا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی:’’اے رب عَزَّوَجَلَّ! ہم ا س سے رُک گئے۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا امام فخر الدین رازی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’اس ترتیب پر حرمت واقع کرنے میں حکمت یہ تھی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ جانتا تھا کہ یہ لوگ شراب نوشی کے بہت دلدادہ ہیں اور انہیں اس سے بہت زیادہ نفع بھی حاصل ہوتا ہے، اگر انہیں ایک ہی حکم سے منع کیاگیا تو یہ ان پر گراں گزرے گا، لہذا اُن پر شفقت فرماتے ہوئے درجہ بدرجہ حرمت نازل فرمائی۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سورۂ بقرہ کی مذکورہ آیت ِ مبارکہ سے شراب اور جوئے کو حرام فرمایا، پھر یہ حکم نازل ہوا ’’ لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنۡتُمْ سُکَارٰی ‘‘ یہ فرمان باری تعالیٰ بھی شراب نوشی کی حرمت کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ شراب پینے والے پر نشے کی حالت میں نماز مشکل ہوتی ہے تو اس سے ممانعت ضمنی طور پر پینے سے ممانعت ہے، پھر سورۂ مائدہ کی مذکورہ آیت ِ مبارکہ نازل ہوئی جو کہ حرمت میں انتہائی پختہ ہے۔‘‘ (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…تفسیر البغوی، البقرۃ، تحت الآیۃ۲۱۹،ج۱، ص۱۴۰۔
2…التفسیر الکبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ۲۱۹،ج۲ص۳۹۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع