30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی۲۰۴ھ)فرماتے ہیں : ’’میں اس کی حلَّت کا اعتقاد رکھنے والے کو حد لگاؤں گا مگر اس کی گواہی قبول کروں گا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے اس لئے حد لگانے کا حکم دیا کیونکہ اس کی حلت کا شبہ کمزور ہے اوردوسرا یہ کہ اعتبار اُس حاکم کے مذہب کا ہو گا جس کے پاس جھگڑا لے جایا جائے نہ کہ مد مقابل کا، اس کے مَقْبُولُ الشَّہَادَۃ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے عقیدے میں فسق کا مرتکِب نہیں ہوا۔
جس شے کے پینے سے بالکل نشہ نہ آئے اس کے حکم میں اختلاف ہے، اکثر علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے اور شراب کے تمام احکام اس شے کے لئے ثابت ہوتے ہیں اور انہوں نے اس کی مخالفت اور غلط بیانی کرنے والے کے جواب میں طویل کلام فرمایا اورایسی شراب کا پینا جو بالفعل نشہ لائے حرام ہے اور پینے والا بالاجماع فاسق ہے، اسی طرح نچوڑے ہوئے انگور یا کھجور کی تھوڑی سی مقدار جب وہ آگ پر پکائے بغیر شدید جوش میں آ جائے تو وہ بھی حرام ہے اور اجماعاً نجس ہے، اس کے پینے والے کو حد لگائی جائے گی اور وہ فاسق ہو جائے گا بلکہ اگر حلال جان کر پئے تو کافر ہو جائے گا۔
علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ شراب کی حرمت کے متعلق 4 آیات نازل ہوئیں۔ پہلے ارشاد فرمایا:
وَمِنۡ ثَمَرٰتِ النَّخِیۡلِ وَالۡاَعْنٰبِ تَتَّخِذُوۡنَ مِنْہُ سَکَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾ (پ۱۴، النحل: ۶۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اور کھجور اور انگور کے پھلوں میں سے کہ اس سے نبیذ بناتے ہو اور اچھا رزق بیشک اس میں نشانی ہے عقل والوں کو۔
مسلمان پھر بھی اسے پیتے رہے اس لئے کہ یہ ان کے لئے حلال تھی پھر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور حضرت سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہوغیرہ جیسے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے بارگاہِ رِسالت میں عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہمیں شراب کے بارے میں فتویٰ دیجئے،کیونکہ یہ عقل کو ختم کرنے والی اور مال کو سلب کرنے والی ہے۔‘‘ تو اللہ عَزَّوَجَلَّکا یہ حکم نازل ہوا:
یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیۡسِرِؕ قُلْ فِیۡہِمَاۤ اِثْمٌ کَبِیۡرٌ وَّ مَنٰفِعُ لِلنَّاسِ ۫ وَ اِثْمُہُمَاۤ اَکْبَرُ مِنۡ نَّفْعِہِمَا ؕ (پ۲، البقرۃ:۲۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان: تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں ، تم فرما دو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع