30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک پیالہ لے کر آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے، آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُسے سونگھا تو چہرۂ اقدس پر شکنیں نمودار ہو گئیں اور اسے واپس لوٹا دیا، حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اہلِ مکہ پر ان کی شراب حرام فرمادی ہے؟‘‘ تو ارشاد فرمایا: ’’مجھے پیالہ واپس کرو۔‘‘ انہوں نے واپس کیا تو آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آبِ زمزم منگوا کر اس میں اُنڈیلا اور اس کے بعد نوش فرما کر ارشاد فرمایا:’’جب تم پر کوئی پینے والی شے سخت (نشہ آور) ہو جائے تو اس کا جوش پانی کے ذریعے ختم کر لیا کرو۔‘‘ (۱)
اگر مذکورہ روایت کو صحیح تسلیم کر بھی لیا جائے تب بھی یہ دلیل مردود ہے کیونکہ ہو سکتا ہے وہ ایسا پانی ہو جس کا کھاراپَن زائل کرنے کی خاطر اس میں کھجوریں ڈالی گئی ہوں لیکن پانی کا ذائقہ کچھ تُرشی کی وجہ سے تبدیل ہو گیا ہو چونکہ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طبیعت مبارک بہت زیادہ پاکیزہ تھی لہٰذا آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے برداشت نہ کیا اور چہرۂ اَنور پر شکن پڑ گئے، پھر آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کی ترشی یا ذائقہ کو ختم کرنے کے لئے اس میں مزید پانی ملا دیا۔
اور صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی بعض روایات اس کی حلَّت کا تقاضا کرتی ہیں۔ چنانچہ، امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بعض عاملین کو لکھا: ’’مسلمانوں کو ایسا طِلاء پینے دیجئے جس کے 2حصے جل جائیں ۔‘‘ (۲) (طِلاء انگور کا وہ شیرہ جس کو اتنا پکایا جائے کہ وہ گاڑھا ہوجائے )
حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ اور حضرت سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے متعلق شراب پینے کی روایت بھی مردود ہے۔ اسے صحیح تسلیم کر بھی لیں تب بھی دیگر روایات اس کی تردید کرتی ہیں۔ لہذا اعتراض دور ہو گیااور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے صحیح سند کے ساتھ ثابت روایت باقی رہ گئی جس میں فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز اگرچہ نشہ نہ لائے حرام ہے خواہ کم ہو یا زیادہ۔ کیونکہ یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ اس کی حرمت کی احادیث اتنی صریح ہیں کہ تاویل کا احتمال نہیں رکھتیں اور اس کے حلال ہونے کا شبہ کمزور ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…التفسیر الکبیر، البقرۃ ، تحت الآیۃ۲۱۹،ج۲، ص۳۹۸۔
2…سنن النسائی،کتاب الاشربۃ، باب ذکر ما یجوز شربہ من الطلاء وما لا یجوز، الحدیث:۵۷۱۸،ص۲۴۵۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع