30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّوَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:
یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیۡسِرِؕ قُلْ فِیۡہِمَاۤ اِثْمٌ کَبِیۡرٌ وَّ مَنٰفِعُ لِلنَّاسِ ۫ وَ اِثْمُہُمَاۤ اَکْبَرُ مِنۡ نَّفْعِہِمَا ؕ (پ۲، البقرہ:۲۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان: تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں تم فرما دو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی، اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے۔
آیتِ مبارکہ کی تفسیر
’’ یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیۡسِرِ ‘‘ کا معنی یہ ہے کہ وہ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ان دونوں (یعنی شراب اور جوئے) کا حکم پوچھتے ہیں۔
خَمْر کسے کہتے ہیں ؟:
خَمْر (یعنی شراب) انگور کے اس رَس یا جُوس کو کہتے ہیں جسے خوب جوش دیا جائے یہاں تک کہ وہ جھاگ چھوڑ دے۔ شراب پر مجازی طور پر اس لفظ کا اطلاق کیا جاتا ہے بلکہ حقیقی طور پر اسے یہی نام دیا جاتا ہے آنے والی احادیث اس کی علت کو واضح کریں گی یا صحیح ترین قول کے مطابق لغت قیاس سے ثابت کرتی ہے کہخَمْر انگور کے علاوہ ہر اُس شے کو کہتے ہیں جو جوش مارنے اور جھاگ دینے والی ہو۔
خمر کہنے کا سبب:
اسے خَمْر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ عقل کو ڈھانپ یعنی چھپا لیتی ہے، عورت کی اوڑھنی کو بھی اس لئے خِمَارکہتے ہیں کیونکہ وہ اس کے چہرے کو چھپا لیتی ہے۔ نیزخَامِر اس شخص کو کہا جاتا ہے جواپنی گواہی چھپا لیتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کو خَمْر اس لئے کہتے ہیں کیونکہ یہ ڈھا نپ دی جاتی ہے یہاں تک کہ شدَّت اختیار کر لیتی ہے، حدیث ِ پاک کے یہ الفاظ اسی سے ہیں : ’’خَمِّرُوْا آنِیَتَکُمْیعنی اپنے برتن ڈھانپو۔‘‘ (۱)
بعض اہلِ لُغت کہتے ہیں کہ اسے خَمْر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ عقل کو خَلَط مَلَط کر دیتی ہے، اسی سے عربوں کا یہ قول ہے:’’خَامَرَہٗ دَاءٌ یعنی بیماری نے اسے خَلَط مَلَط کر دیا۔‘‘ بعض کے نزدیک اسے خَمْر اس لئے کہتے ہیں کہ یہ چھوڑدی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری،کتاب الاشربۃ، باب تغطیۃ الانائ، الحدیث:۵۶۲۳، ص۴۸۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع