30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جَلا وطنی کے متعلق اختلاف:
جَلاوطنی میں بھی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اختلاف ہے۔ حضرت سیِّدُنا سعید بن جبیر اور حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمَا فرماتے ہیں : ’’حاکم اُسے تلاش کرے اور جس جگہ بھی اسے پائے وہاں سے باہر نکال دے۔‘‘ ایک قول یہ ہے کہ ’’اسے اس لئے تلاش کیا جائے تاکہ اس پر حد قائم کی جائے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ حاکم اس کا خون مباح کر دے اور اعلان کر دے کہ’’جو اسے پائے قتل کر دے۔‘‘ یہ حکم اس حکمران کے متعلق ہے جو اسے پکڑنے پر قادر نہ ہو اور جو اُسے پکڑنے پر قادر ہو تو اسے جَلاوطن کرنے سے مراد قید کرنا ہے۔ ایک قول کے مطابق جَلاوطنی سے مراد قید ہے، اکثر اہلِ لُغت نے اسی قول کو اختیار کیا ہے، وہ اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ اگر اس سے مراد تمام زمین سے نکالناہو تو یہ محال ہے یا دوسرے اسلامی ملک کی طرف نکالنا ہو تو یہ بھی جائز نہیں کیونکہ یہ وہاں کے مسلمانوں کو تکلیف دے گا یا اس سے مراد کافر ممالک سے نکالنا ہو تو یہ اسے مرتد ہونے پر ابھارے گا۔ لہذا یہی صورت باقی رہتی ہے کہ اسے قید کر دیا جائے اورقیدی کوجلاوطن ہی سمجھا جاتا ہے کیونکہ نہ تو وہ دنیا کی نعمتوں اور لذات سے کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے اور نہ ہی اپنے قرابت داروں اور دوستوں کے ساتھ مل بیٹھ سکتا ہے۔ پس وہ حقیقۃ ً جلاوطن شخص کی طرح ہی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب صالح بن عبد القدوس کو زندیق ہونے کی تہمت کی بنا پر تنگ مکان میں قید کیا گیا اور وہاں اس کا ٹھہرنا طویل ہو گیا تو اس نے یہ اشعار کہے:
خَرَجْنَا مِنَ الدُّنْیَا وَنَحْنُ مِنْ اَہْلِہَا فَلَسْنَا مِنَ الْمَوْتٰی عَلَیْہَا وَلَا الْاَحْیَاءِ
اِذْ جَآءَ نَا السَّجَّانُ یَوْمًا لِحَاجَۃٍ عَجِبْنَا وَقُلْنَا جَآءَ ہَذَا مِنَ الدُّنْیَا
ترجمہ: (۱) ہم دُنیا سے نکل گئے حالانکہ ہم دُنیا والوں میں سے ہیں لیکن اس حالت میں نہ مُردوں میں سے ہیں اور نہ زندوں میں سے ۔
(۲) ایک دن جب داروغۂ جیل کسی ضرورت کے لئے ہمارے پاس آیا تو ہم حیران ہو گئے اور کہنے لگے کہ یہ دُنیا سے آیا ہے۔
ذٰلِکَسے مراد بیان کردہ جزا ہے،"خِزْیٌ"سے مراد رسوائی، ذِلت اور عذاب ہے اور "وَّلَہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ " سے مراد یہ ہے کہ آخرت میں ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے مگر یہ کہ تمہارے ان پر قدرت پانے سے پہلے اللہ عَزَّوَجَلَّانہیں معاف کر دے جیسا کہ دوسرے دلائل اس پر دلالت کرتے ہیں ۔معتزلہ کا مؤقف اس کے برعکس ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع