30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے جائز نہیں ہو جاتا اگرچہ کوئی بھی صورت ہو اس لئے کہ قابلِ شہوت عورت کو دیکھنے سے ہیجان پیدا ہونا ایک ایسا طبعی امر ہے جو اختیار دینے والے پر موقوف نہیں اسی طرح انہوں نے یہ بھی تصریح کی کہ اگرچہ اکراہ زنا کو جائز نہیں کرتا مگر یہ ایسا شبہ ہے جو حد کو ساقط کر دیتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایک ایسا شبہ ہے جس سے زنا کا کبیرہ ہوناساقط ہوجائے گا یا اس کا کبیرہ اور گناہ ہونا اپنے حال پر باقی رہے گا اگرچہ زنا بالجبرہو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا، البتہ! اس میں غور وفکر کی گنجائش ہے اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ صغیرہ گناہ تب ہوگا جبکہ اس نے یہ فعل بالجبر کیا ہو اوریہ کسی کو جبراً قتل کرنے کی طرح نہیں کیونکہ وہاں بندہ اپنی زندگی کو ترجیح دیتا ہے، اسی وجہ سے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس پر اجماع کیا کہ قتل اکراہ سے جائز نہیں ہوجاتا۔ البتہ! علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے ایک گروہ کا قول ہے: ’’بے شک زنا اکراہ سے جائز ہو جاتا ہے۔‘‘ پس ہم نے مذکورہ دونوں اقوال کے درمیان فرق کو اچھی طرح جان لیا۔
اعتراض: آپ نے اس چھٹے کبیرہ گناہ میں شبہ کو کیوں ترجیح دی حالانکہ پہلے 5 گناہوں میں اسے ترجیح نہیں دی؟
جواب: ان میں اس اعتبار سے فرق کیا جائے گا کہ مذکورہ 5 گناہوں میں اس بات کا قائل کوئی نہیں کہ یہ شبہ ایک عذر ہے جو حِلَّت کی طرف لے جانے والا ہے، پہلے دو اور پانچویں گناہ میں یہ بات بالکل ظاہر ہے جبکہ تیسرے اور چوتھے گناہ کی اباحت کے قائل کے لئے شرط ہے کہ وہ قائلِ اباحت کی تقلید کرے۔ مگر قائلِ حرمت کے مقلد کے لئے بالاجماع یہ گناہ جائز نہیں اور یہاں کلام قائلِ حرمت کے مقلد کے بارے میں ہے۔
چونکہ جبر واکراہ کثیر مسائل میں گناہ کو ساقط کرنے والا عذر شمار کیا جاتا ہے بلکہ زنا اور قتل کی تما م صورتوں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے لہٰذا یہاں بھی ممکن ہے کہ اکراہ کبیرہ کو ساقط کرنے والا عذر شمار کیا جائے اگرچہ گناہ کو ساقط نہ کرے، کیونکہ امرِتابع میں وہ چیز معاف کر دی جاتی ہے جو امرِحقیقی میں معاف نہیں کی جاتی اوریہی گناہ کی اصل ہے۔ رہا اس کا کبیرہ یا صغیرہ گناہ ہونا تو جان لیجئے کہ یہ اس کے لئے ایک امرِتابع ہے۔
۞۞۞۞۞۞۞
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع