30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی اسی طرح حکایت کیا گیا ہے اور حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی۲۰۴ھ) کے نزدیک اس قول کی بنا پر 100 کوڑے اور ایک سال کی جَلاوطنی ہے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ۔
ایک گروہ کا قول ہے کہ لُوطی کو رجم کیا جائے گا اگرچہ غیر شادی شدہ ہو،یہ قول حضرت سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَــیْہ اور حضرت سیِّدُنا مجاہد عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِنے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے نقل کیا ہے اور حضرت سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۱۰۳ھ) سے بھی نقل کیا گیا ہے جبکہ حضرت سیِّدُنا امام زُہری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی نے بھی اسی کو اختیار کیا اور حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس، حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل اور حضرت سیِّدُنا امام اسحاق بن راہویہ رَحِمَـہُمُ اللہُ السَّلَام کا بھی یہ ہی قول ہے۔
حضرت سیِّدُنا حماد بن ابراہیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَرِیْم حضرت سیِّدُنا امام ابراہیم نخعی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی سے نقل فرماتے ہیں کہ ’’اگر کسی کو دو بار رجم کرنے کی سزا دی جاتی تو لوطی کو دی جاتی۔‘‘
حضرت سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی۲۰۴ھ)کا دوسرا قول یہ ہے کہ ’’لواطت کرنے والے اور کروانے والے دونوں کو قتل کر دیا جائے جیسا کہ حدیث ِ پاک میں آیا ہے۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُناحافظ امام زکی الدین عبدُالعظیم مُنذِرِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :’’4 خلفا امیر المؤ منین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ، امیر المؤ منین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم، حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور خلیفہ ہشام بن عبد الملک نے لوطی کو آگ سے جَلایا۔‘‘ (۲)
حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے امیر المؤ منین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں ایک خط روانہ کیا کہ انہوں نے عرب کے اطراف میں ایک شخص کو پایا جس سے اسی طرح جماع کیا جاتا ہے جس طرح عورت سے کیا جاتا ہے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس شخص کے متعلق فیصلہ کرنے کے لئے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو جمع فرمایا، ان میں امیر المؤ منین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم بھی تھے، انہوں نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک یہ ایک ایسا گناہ ہے جو صرف ایک امت نے کیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں وہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…شرح السنۃ للبغوی،کتاب الحدود ، باب من عمل عمل قوم لوط، تحت الحدیث:۲۵۸۷،ج۵، ص۴۷۹۔
2…الترغیب
والترہیب،کتاب الحدود،باب الترہیب من اللواط…الخ،تحت الحدیث:۳۷۰۰، ج۳،ص۲۲۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع