30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بڑی برائی میں مبتلا کر دے کیونکہ تو یقینی طور پر جانتا ہے کہ قرآنِ پاک کی دلیل اور اجماعِ امت کی روشنی میں وہ تیرا دشمن ہے اور دشمن اپنے دشمن کو مکمل طور پر ہلاک کرکے ہی خوش ہوتا ہے۔
اَ مْرَد کے متعلق سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکافرمان:
حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۱۶۱ھ) (جن کی معرفت، علم، زُہدوتقوی اور نیکیوں میں پیش قدمی سے تو آپ واقف ہی ہیں ) ایک حمام میں داخل ہوئے، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کے پاس ایک خوبصورت لڑکا آ گیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہنے فرمایا:’’اسے مجھ سے دور کرو! اسے مجھ سے دور کرو! کیونکہ میں ہر عورت کے ساتھ ایک شیطان دیکھتا ہوں جبکہ ہر لڑکے کے ساتھ10 سے زیادہ شیطان دیکھتا ہوں۔‘‘ (۱)
اَ مْرَد کے متعلق سیِّدُنا امام احمد عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد کا فرمان:
حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّل (متوفی ۲۴۱ھ) کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا، اس کے ساتھ ایک خوبصورت بچہ بھی تھا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہنے پوچھا:’’تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟‘‘ اس نے عرض کی: ’’یہ میرا بھانجا ہے۔‘‘ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے ارشاد فرمایا: ’’آئندہ اسے لے کر میرے پاس نہ آنا اور اسے ساتھ لے کر راستے میں نہ چلا کر تا کہ اسے اور تمہیں نہ جاننے والے بدگمانی نہ کریں۔‘‘
جب قبیلہ عبدُ القیس کا وفد سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوا تو ان کے ساتھ ایک خوبصورت لڑکا بھی تھا، آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُسے اپنی پشت ِ مبارک کے پیچھے بٹھا دیا اور فرمایا: ’’حضرت داؤد عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی آزمائش بھی نظر کے سبب ہوئی ۔‘‘ (۲)
شاعر نے کتنی پیاری بات کہی ہے :
کُلُّ الْحَوَادِثِ مَبْدَؤُہَا مِنَ النَّظَرِ وَمُعْظَمُ النَّارِ مِنْ مُّسْتَصْغَرِ الشَّرَرِ
وَالْمَرْءُ مَا دَامَ ذَا عَیْنٍ یُّقَلِّبُہَا فِیْ اَعْیُنِ الْعَیْنِ مَوْقُوفٌ عَلَی الْخَطَرِ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…شعب الایمان للبیہقی ،باب فی تحریم الفروج ،الحدیث:۵۴۰۴،ج۴،ص۳۶۰۔
2…المصنف لابن ابی شیبۃ،کتاب الزہد،کلام داود،الحدیث:۵،ج۸،ص۱۱۵۔
کتاب الکبائرللذہبی، الکبیرۃ الحادیۃ عشرۃ:اللواط،ص۶۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع