30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مقام میں صحبت نہ کرو بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ حق بات سے حیا نہیں فرماتا۔‘‘ (۱)
تنبیہ:
ان تین کو بھی کبیرہ گناہوں میں شما ر کیا گیا ہے، پہلے کے کبیرہ ہونے میں تو ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اجماع ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کا نام فَاحِشَہ اور خَبِیْثَہ رکھااور اس کی وجہ سے اُمَمِ سابقہ میں سے ایک امت کی سزا کا بھی ذکر فرمایا۔
شوافع کے نزدیک مشہور یہی ہے کہ قیاساً لغت کے ثبوت سے یہ زنا کے تحت داخل ہے اور جمہور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک اس میں حد(یعنی مقررہ سزا) ہے۔ ہمارے (شافعی)ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے ایک گروہ نے پہلے گناہ کی طرح دوسرے اور تیسرے کو بھی کبیرہ قرار دیا ہے جیسا کہ یہ ظاہر اور واضح ہے نیز یہ فعل بد قومِ لو ط بھی کرتی تھی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں ڈرانے کے لئے اپنی کتابِ عزیز میں ان کا قصہ بیان فرمایا تا کہ ہم ان کی راہ پر نہ چلیں اور ہم بھی اس گناہ میں نہ مبتلا ہو جائیں جس میں وہ مبتلا ہوئے۔ چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عٰلِیَہَا سَافِلَہَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیۡہَا حِجَارَۃً مِّنۡ سِجِّیۡلٍ ۬ۙ مَّنۡضُوۡدٍ ﴿ۙ۸۲﴾ مُّسَوَّمَۃً عِنۡدَ رَبِّکَ ؕ وَمَا ہِیَ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ بِبَعِیۡدٍ ﴿٪۸۳﴾(پ۱۲،ھود: ۸۲تا ۸۳)
ترجمۂ کنز الایمان: پھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس بستی کے اوپر کو اس کا نیچا کردیا اور اس پر کنکر کے پتھر لگا تار برسائے، جو نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس ہیں اور وہ پتھر کچھ ظالموں سے دور نہیں۔
مذکورہ آیات کی تفسیر
’’فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عٰلِیَہَا سَافِلَہَا‘‘ سے مراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا جبرئیل عَلَـــیْہِ السَّلَام کو حکم ارشاد فرمایا کہ ان کی بستیوں کو جڑ سے اُکھیڑ دے پس انہوں نے ان بستیوں کو اُکھیڑا اور انہیں لے کر اُفق کے کنارے تک بلندی پر پہنچ گئے یعنی اپنے پروں پر اتنا اوپر اُٹھا لیا یہاں تک کہ آسمانِ دُنیا کے رہنے والے فرشتوں نے ان کے جانوروں کی آوازیں سن لیں اور پھر اس بستی کو ان پر پَلَٹ دیا۔’’سِجِّیۡلٍ‘‘ سے مراد ایسی تر مِٹی ہے جس کو آگ میں جلایا گیا ہو۔ ’’مَّنۡضُوۡدٍ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ پے در پے، ایک دوسرے کے فوراً بعد وہ پتھر برسائے گئے۔ ’’مُّسَوَّمَۃً‘‘ سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…شعب
الایمان للبیھقی،باب فی تحریم الفروج ، الحدیث:۵۳۷۵،ج۴،ص۳۵۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع