30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{7}…سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظم ہے: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس شخص پر لعنت فرمائی جس نے قومِ لُوْط جیسا عمل کیا، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس شخص پر لعنت فرمائی جس نے قومِ لُوْط کا سا عمل کیا، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس شخص پر لعنت فرمائی جس نے قومِ لُوْط جیسا عمل کیا۔‘‘ (۱)
{8}…اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے:’’چار قسم کے لوگ ایسے ہیں جو صبح بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی میں کرتے ہیں اور شام بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی میں کرتے ہیں۔‘‘ راوی فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!وہ کون لوگ ہیں ؟‘‘ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مرد اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتیں اور چوپایوں اور مردوں سے وطی کرنے والا۔‘‘ (۲)
{9}…نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’جس کو تم قومِ لُوط کا عمل کرتے پاؤ تو فاعل اور مفعول (یعنی لواطت کرنے اور کروانے والے)دونوں کو قتل کر دو۔‘‘ (۳)
{10}… سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے:’’جو چوپائے سے صحبت کرے اسے قتل کر دو اور چوپائے کو بھی اس کے ساتھ قتل کر دو(۴)۔‘‘ (۵)
{11}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’تین آدمیوں کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…السنن الکبری للنسائی، ابواب التعزیرات والشہود،باب من عمل عمل قوم لوط،الحدیث:۷۳۳۷،ج۴،ص۳۲۲۔
2…المعجم الاوسط،الحدیث:۶۸۵۸،ج۵، ص۱۴۳۔
شعب الایمان للبیہقی،باب فی تحریم الفروج، الحدیث:۵۳۸۵،ج۴، ص۳۵۶ ۔
3…سنن ابی داود،کتاب الحدود ،باب فیمن عمل عمل قوم لوط ،الحدیث:۴۴۶۲،ص۱۵۴۹۔
4…مفسر شہیر حکیم الامت حضرت علامہ مولانامفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحنَّان(متوفی۱۳۹۱ھ)مراٰۃ المناجیح ،جلد5، صفحہ296پر اس حدیث پاک کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’(جانور کو)قتل فرمانے میں اشارہ اس طرف ہے کہ اسے ذبح نہ کیا جائے کہ جانور کا ذبح صرف کھانے کے لئے ہوتا ہے اسے کھانا نہیں ، صرف مار کرجلانا یا دفن کردینا ہے۔ یہ جانور کا قتل یا اس لئے ہے تاکہ اس سے مخلوط بچہ نہ پیدا ہوجائے جو آدمی اور جانور کی مخلوط شکل رکھتا ہو تاکہ اس کی بقاسے اس فعل کا چرچا نہ ہو اور اُس(شخص) کی بدنامی نہ ہو۔‘‘
5…سنن ابی
داود،کتاب الحدود،با ب فیمن اتی بہیمۃ،الحدیث:۴۴۶۴ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع