30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہاہے۔‘‘ (۱)
{33}…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ معراج کی رات حضور نبی ٔکریمصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جہنم میں ایک ایسی قوم کو دیکھا جو مردار کھا رہے تھے تو استفسار فرمایا: ’’اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں ؟‘‘ انہوں نے عرض کی:’’یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے(یعنی غیبت کرتے) تھے۔‘‘اور انتہائی سرخ اور نیلے رنگ کا ایک آدمی دیکھا تو پوچھا: ’’اے جبرئیل! یہ کون ہے؟‘‘ عرض کی:’’یہ اونٹنی کی کونچیں (یعنی ٹانگیں ) کاٹنے والا ہے۔‘‘(یہ تمام ثمودیوں میں پرلے درجے کا شریر اور خبیثُ النفس’’ قدار بن سالف‘‘ تھا)۔‘‘ (۲)
{34}…سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’جب مجھے معراج ہوئی تو میں ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے، ان سے وہ اپنے چہروں اور سینوں کونوچ رہے تھے، میں نے پوچھا:’’اے جبرائیل! یہ کون ہیں ؟‘‘ تو انہوں نے عرض کی:’’یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے اور ان کی عزتیں پامال کرتے تھے۔‘‘ (۳)
{35}…میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفیصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’جب مجھے معراج ہوئی تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے جسموں کو آگ کی قینچیوں سے کاٹا جا رہا تھا۔ میں نے پوچھا:’’اے جبرائیل! یہ کون ہیں ؟‘‘ تو انہوں نے عرض کی:’’یہ وہ لوگ ہیں جو زینت کے لئے بناؤ سنگھار کرتے تھے۔‘‘ مزید ارشاد فرمایا:’’پھر میں ایک بدبو دار گڑھے کے پاس سے گزرا تو اس میں سخت آوازیں سنیں۔ میں نے پوچھا:’’اے جبرائیل! یہ کون ہیں ؟‘‘ تو انہوں نے عرض کی:’’یہ آپ کی (امت کی) وہ عورتیں ہیں جو زینت کے لئے بناؤ سنگھار کرتی ہیں اور ایسے کام کرتی ہیں جو ان کے لئے جائز نہیں۔‘‘ پھر میں ایسی عورتوں اور مردوں کے پاس سے گزرا جو اپنی چھاتیوں (یعنی سینوں ) کے ساتھ لٹک رہے تھے، تو میں نے پوچھا:’’اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں ؟‘‘ عرض کی:’’یہ منہ پر عیب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،کتاب الحدود، الحدیث: ۴۳۸۳، ج۶،ص۲۹۰۔
سنن ابی داود ،کتاب الحدود ،باب رجم ماعز بن مالک ،الحدیث:۴۴۲۸،ص۱۵۴۶۔
2…المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند عبد اﷲ بن عباس ،الحدیث:۲۳۲۴،ج۱،ص۵۵۳، بتیغرٍ قلیلٍ۔
3…سنن ابی داود ،کتاب الادب ،باب فی الغیبۃ ،الحدیث:۴۸۷۸،ص۱۵۸۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع