30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مگروہ ان کی ذاتی آراء پر مبنی ہے جبکہ اصحاب (یعنی شافعی علمائے کرام)رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا مؤقف اس کے برخلاف ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہکی کتاب اَ لْمِنْھَاج کی عبارت یہ ہے: ’’زنا کبیرہ گناہ ہے اگرچہ پڑوسی کی بیوی ، رشتہ دار یا اجنبی عورت سے ہو، لیکن ماہِ رمضان یا مکۂ مکرمہزَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا میں زنا کرنا فحش ہے اور حد کے موجب زنا سے کم کوئی برا فعل کیا جائے تو وہ صغیرہ گناہ ہے اور اگر اپنے باپ کی بیوی یا بیٹے کی بیوی یا کسی اجنبی عورت سے زبردستی مجبور کر کے زنا کیا جائے تو بھی کبیرہ گناہ ہے۔‘‘
حضرت سیِّدُنا امام شہاب الدین اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) نے اس مؤقف کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: زنا مطلقًا فحش ترین گناہ ہے۔ جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤی اِنَّہٗ کَانَ فٰحِشَۃً ؕ وَسَآءَ سَبِیۡلًا ﴿۳۲﴾(پ۱۵،بنی اسرائیل:۳۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے، اور بہت ہی بری راہ۔
اور صرف اپنے پڑوسی کی بیوی اور اس کے ساتھ مذکور دیگر عورتوں سے زنا کرنے کو فحش گناہ قرار دینادرست نہیں۔
اور بعض نے یہاں کئی امور ذکر کئے جو درج ذیل ہیں۔ جہنم کے بارے میں اس فرمانِ باری تعالیٰ :’’لَہَا سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ(پ۱۴،الحجر:۴۴)ترجمۂ کنز الایمان: اس کے سات دروازے ہیں۔‘‘کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت سیِّدُنا عطاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ فرماتے ہیں : ’’غم، تکلیف، گرمی اور بدبودار ہوا کے اعتبار سے ان دروازوں میں سے سب سے زیادہ سخت دروازہ زانیوں کے لئے ہو گا۔‘‘ اور حضرت سیِّدُنا مکحول رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہفرماتے ہیں : ’’جہنمی بدبودار ہوا پائیں گے تو کہیں گے: ’’ایسی سخت بدبودار ہوا تو ہم نے کبھی نہیں پائی۔‘‘ تو انہیں کہا جائے گا: ’’یہ زانیوں کی شرمگاہوں کی بدبو ہے۔‘‘
امامُ التفسیرحضرت سیِّدُنا ابنِ زیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہفرماتے ہیں :’’زانیوں کی شرمگاہوں کی بدبو جہنمیوں کو اذیت دے گی۔‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے لئے جو 10 آیات عطا فرمائیں ان میں یہ بھی ہے:’’اور چوری اور زنا سے بچتے رہنا ورنہ میں تم سے اپنی رحمت روک دوں گا۔‘‘ پس جب اپنے مقرَّب نبی حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ ارشاد فرمایا توکسی دوسرے کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے؟‘‘ (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…شعب الایمان للبیہقی ، باب فی حفظ اللسان ، الحدیث: ۵۸۵۸،ج۴، ص۲۲۲۔
کتاب الکبائر للذہبی ، الکبیرۃ العاشرۃ: الزنی…الخ ، ص۵۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع