30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{49}…ابوداؤد شریف کی روایت میں یہ بھی ہے:’’مگریہ کہ اسے قیامت کے دن کھڑاکیاجائے گااورکہا جائے گا:یہ ہے تیر ے گھر والوں میں پیچھے رہ جانے والا۔لہذا اس کی نیکیوں میں سے جو چاہے لے لے۔‘‘ (۱)
{50}…نسائی شریف کی روایت میں مزیدیہ الفاظ ہیں :’’تمہاراکیاخیال ہے کہ کیاوہ اس کی نیکیوں میں سے کچھ چھوڑے گا۔‘‘ (۲)
تنبیہ:زنا کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اس پرائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا اجماع ہے بلکہ صحیح حدیث ِ پاک گزر چکی ہے کہ ’’پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنا سب سے بڑا گناہ ہے۔‘‘ ایک قول یہ ہے کہ زنا مطلقًاقتل سے بھی بڑا گناہ ہے اوریہ ایسا گناہ ہے جسے شرک سے متَّصل ذکر کیا گیا۔ جبکہ اصح قول یہ ہے کہ شرک سے متصل قتل ہے پھر زنا اور زنا کی سب سے بری قسم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنا ہے۔
حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامدمحمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ) ’’اِحْیَائُ الْعُلُوْم‘‘ میں فرماتے ہیں :’’زنا لواطت سے بھی بڑا گناہ ہے، اس لئے کہ اس میں شہوت دونوں طرف سے دعوت دیتی ہے۔ اس کا وقوع اکثر ہوتا ہے اور اس کی کثرت سے نقصان زیادہ ہوتا ہے۔‘‘ (۳)
اعتراض: یہ بات گزر چکی ہے کہ لواطت کی حد زنا سے سخت ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام مالک بن اَنَس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ (متوفی ۱۷۹ھ)اورحضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَــیْہ(متوفی۲۴۱ھ) اور دیگرائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے لوطی کو رجم کرنے کا حکم دیا اگرچہ وہ غیر شادی شدہ ہو بخلاف زانی کے اور دوسری دلیل یہ ہے کہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے دوسرے گروہ نے لوطی کی حد میں جتنی شدَّت اختیار کی زنا کی حد میں اتنی شدت اختیار نہیں کی؟
جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ بعض اوقات مفضول (یعنی جس پر کسی کوفضیلت دی گئی ہو) میں زیادتی ہوتی ہے اور اس میں بہت کلام ہے۔اس ضمن میں حضرت سیِّدُنا حلیمی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی کا کلام بھی ہے جس کی مثالیں بیان ہو چکی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن ابی داود ،کتاب الجہاد ،باب فی حرمۃ النساء المجاھدین علی القاعدین ،الحدیث:۲۴۹۶،ص۱۴۰۸۔
2…سنن النسائی،کتاب الجھاد،باب من خان غازیا فی اہلہ ،الحدیث:۳۱۹۳،ص۲۲۹۴،بتغیرٍ۔
3…احیاء علوم الدین،کتاب التوبۃ ،بیان اقسام الذنوب…الخ ،ج۴،ص۲۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع