30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{30}… رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدمصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’جو دنیا میں اپنے بھائی کا گوشت کھائے گاوہ قیامت کے دن اس کے قریب لایا جائے گا اور اسے کہا جائے گا:’’اسے مردہ حالت میں کھا جس طرح اسے زندہ کھاتاتھا۔‘‘ پس وہ اسے کھائے گا اور تیوری چڑھا ئے گااور (سخت تکلیف کی وجہ سے) شوروغل مچائے گا۔‘‘ (۱)
{31}…حضرت سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک مردہ خچر کے قریب سے گزرے تو بعض احباب سے ارشاد فرمایا:’’ آد می کا اسے پیٹ بھر کر کھانا مسلمان آدمی کا گوشت کھانے(یعنی غیبت کرنے) سے بہتر ہے۔‘‘ (۲)
{32}…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنو اسلم کے ایک شخص نے حضورنبی ٔرحمت ، شفیعِ اُمتصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوکر چار مرتبہ اپنے خلاف زنا کی گواہی دی اور عرض گزار ہوا:’’میں نے ایک عورت سے فعلِ حرام کا ارتکاب کیا ہے۔‘‘ لیکن حضورصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہر بار اس سے اعراض فرماتے۔ راوی نے آگے پوری حدیث بیان کی، یہاں تک کہ آپ صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا: ’’تیرا اس بات سے کیا ارادہ ہے؟‘‘ اس نے عرض کی:’’مجھے پاک کر دیجئے۔‘‘ توآپ صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے سنگسار کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔لہٰذا اسے سنگسار کر دیا گیا۔ حضورصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انصار کے دو آدمیوں کو سنا کہ ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا:’’اس کی طرف تو دیکھو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے اس کی پردہ پوشی فرمائی لیکن اس کا دل مطمئن نہ ہوا یہاں تک کہ کتے کی طرح سنگسار کر دیا گیا۔‘‘آپ صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خاموش رہے۔ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد ایک مردہ گدھے کے پاس سے گزرے جس کے پاؤں پھیلے ہوئے تھے تو استفسار فرمایا:’’فلاں فلاں کہاں ہیں ؟‘‘ انہوں نے حاضرہو کر عرض کی:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہم حاضر ہیں ۔‘‘ تو آپصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان دونوں سے ارشاد فرمایا:’’اس مردہ گدھے کو کھاؤ۔‘‘ انہوں نے عرض کی:’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اللہ عَزَّوَجَلَّآپ کے صدقے ہمیں معاف فرمائے، اسے کون کھا سکتا ہے؟‘‘ تو آپ صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اس آدمی کی عزت پامال کرنے سے تمہیں جو گناہ ملا ہے وہ اس مردار کو کھانے سے زیادہ سخت ہے، اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! وہ تو اس وقت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الاوسط ،الحدیث:۱۶۵۶،۵۸۵۳،ج۱،۴،ص۴۵۰،۲۴۱۔
2…التوبیخ
والتنبیہ لأبی الشیخ الأصبہانی ،باب کفارۃ الغیبۃ ،الحدیث:۲۱۲،ص۹۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع