30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جنت کی خوشبوسے محروم لوگ:
{32}… حضرت سیِّدُنا جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک جگہ اکھٹے بیٹھے ہوئے تھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّ ہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا، اس کے بعد(راوی نے) پوری حدیث ِ پاک بیان کی یہاں تک کہ سرکا رِمدینہصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’والدین کی نافرمانی سے بچو کیونکہ جنت کی خوشبو ہزار (1000) سال کی مسافت سے پائی جائے گی مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اسے والدین کا نافرمان، قطع تعلُّقی کرنے والا، بوڑھا زانی اور تکبر سے اپنا تہبند لٹکانے والا نہ پائے گا، بے شک کبریائی ربُّ العٰلَمین ہی کے لئے ہے۔‘‘(۱)
زانیوں کی بدبو:
{33}…حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ باقرینہ ہے: ’’7 آسمان اور 7 زمینیں بوڑھے زانی پر لعنت بھیجتی ہیں اور بے شک زانیوں کی شرم گاہوں کی بدبو جہنمیوں کو اذیت دے گی۔‘‘ (۲)
{34}…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے: قیامت کے دن لوگوں پر ایک بدبو دار ہوا بھیجی جائے گی جس سے ہر نیک وبد اذیت میں مبتلا ہو گا یہاں تک کہ وہ ان سب تک مکمل طور پرپہنچ جائے گی تو ایک منادی ندا دے گا اور انہیں اپنی آواز سنائے گا اور ان سے کہے گا: ’’کیا تم اس ہوا کے متعلق جانتے ہو جس نے تمہیں اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے؟‘‘ وہ کہیں گے:’’ہم نہیں جانتے، مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! یہ ہمیں مکمل طور پر پہنچ چکی ہے۔‘ ‘ تو انہیں کہا جائے گا: ’’جان لو! یہ ان زانیوں کی شرم گاہوں کی بدبو ہے جنہوں نے دنیا میں تو بہ نہ کی اور زنا(کے گناہ) کو لئے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ملے۔‘‘پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں نظر اندازفرما دے گا اور نظرانداز کرتے ہوئے جنت یا دوزخ کا ذکر نہ کرے گا۔ (۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الاوسط ، الحدیث:۵۶۶۴،ج۴، ص۱۸۷۔
2…البحرالزخار المعروف بمسند البزار، مسند بریدۃ بن الحصیب، الحدیث:۴۴۳۱،ج۱۰، ص۳۱۰۔
3…ذم الھوی، الباب الخامس والعشرون فی ذم الزنا، الحدیث:۵۷۱، ص۱۵۵۔
جامع الاحادیث، مسند علی ، الحدیث:۶۳۳۶،ج۱۵، ص۴۰۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع