30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رحمت ِ الٰہی سے محروم لوگ:
{8}…سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ حق بیان ہے:’’3شخص ایسے ہیں جن کے ساتھ بروزِقیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ نہ کلام فرمائے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف نظرِ رحمت فرمائے گا بلکہ ان کے لئے درد ناک عذاب ہو گا: (۱) بوڑھا زانی (۲) جھوٹا بادشاہ اور (۳) متکبر فقیر۔‘‘ (۱)
{9}… شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ حقیقت نشان ہے: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن بوڑھے زانی اور بوڑھی زانیہ کی طرف نظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔‘‘ (۲)
{10}…اللہ عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَـزَّ ہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ 4بندوں کوناپسند فرماتا ہے: (۱) بہت زیادہ قسمیں کھا نے والا تاجر (۲) تکبر کرنے والا فقیر (۳)بوڑھا زانی اور (۴) ظالم حکمران ۔‘‘ (۳)
جنت سے محروم لوگ:
{11}…حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’3 شخص جنت میں داخل نہ ہوں گے: (۱) بوڑھا زانی (۲) جھوٹاامام اور (۳)مغرور فقیر۔‘‘ (۴)
{12}…خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ 3 بندوں کو ناپسند فرماتا ہے: (۱) بوڑھا زانی (۲) متکبر فقیر اور (۳) مال دار ظالم۔‘‘ (۵)
{13}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اُشَیْمِطْ(یعنی پختہ عمر والے)زانی اور متکبر فقیر کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرماتا۔‘‘ (۶)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم،کتا ب الایمان ،باب بیان غلظ تحریم اِسْبَال الِازار…الخ ،الحدیث۲۹۶،ص۶۹۶۔
2…المعجم الاوسط، الحدیث:۸۴۰۱،ج۶، ص۱۷۲۔
3…سنن النسائی،کتاب الزکاۃ، باب الفقیر المختال، الحدیث:۲۵۷۷، ص۲۲۵۴۔
4…البحرالزخار المعروف بمسند البزار، مسند سلمان الفارسی، الحدیث:۲۵۲۹،ج۶، ص۴۹۳۔
5…جامع الترمذی، ابواب صفۃ الجنۃ، باب احادیث فی صفۃ الثلاثۃ الذین یحبہم اﷲ، الحدیث: ۲۵۶۸،ص۱۹۱۰۔
6…المعجم
الکبیر، الحدیث:۱۳۱۹۵،ج۱۲، ص۲۳۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع