30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بچو کیونکہ اس میں چھ برائیاں ہیں 3 دنیا میں اور 3 آخرت میں ، دنیا میں پہنچنے والی برائیاں یہ ہیں : (۱) اس (کے چہرے) کی رونق چلی جائے گی (۲) تنگدستی آئے گی اور (۳) اس کی عمر میں کمی ہو جائے گی اور آخرت میں پہنچنے والی برائیاں یہ ہیں : (۱) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی(۲) بُرا حساب اور (۳) جہنم کا عذاب۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنامجاہد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد اوران کے ہم عصرائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے ایک طبقہ نے’’وَ لَا تَاۡخُذْکُمۡ بِہِمَا رَاۡفَۃٌ‘‘کا معنی یہ بیان فرمایا: ’’ تمہیں ان پر ترس نہ آئے کہ تم حدود ترک کر دو اور انہیں قائم نہ کرو۔‘‘ ایک قول یہ ہے کہ یہاں نرمی کرنے سے ممانعت ہے اور دونوں (یعنی زانی اورزانیہ) کو دردناک ضرب لگانے کا حکم ہے اور یہ حضرت سیِّدُنا ابن مسیب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ اور حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کا قول ہے اور فِیۡ دِیۡنِ اللہِ کا معنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حکم ہے۔‘‘ (۲)
حد لگانے کا طریقہ:
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی ایک لونڈی نے زنا کیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کو حد لگائی اور جلَّاد سے فرمایا: ’’اسے پشت اور پاؤں پر مارو۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے نے عرض کی:’’وَ لَا تَاۡخُذْکُمۡ بِہِمَا رَاۡفَۃٌ فِیۡ دِیۡنِ اللہِ‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:’’اے میرے بیٹے! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے اسے قتل کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ میں نے اسے مارا بھی ہے اور تکلیف بھی پہنچائی ہے۔‘‘ (۳)
اسی وجہ سے ہمار ے ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامارشاد فرماتے ہیں :’’عورت کو زنا اور دیگر حدود میں معتدل کوڑے سے مارا جائے گا،نہ کہ نئے کوڑے سے کہ زخمی ہو جائے اور نہ ہی ایسے پرانے سے کہ درد ہی نہ ہو، اور اُسے گھسیٹا نہ جائے گا اور نہ ہی باندھا جائے گا بلکہ چھوڑ دیا جائے گا اگرچہ وہ اپنے ہاتھوں کے ذریعے خود کو بچاتی رہے جبکہ مرد کو کھڑا کرکے مارا جائے گا اور جو چیز اسے درد پہنچنے سے مانع ہو اسے علیحدہ کر دیا جائے گا اور عورت کو بٹھا یا جائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الکامل فی ضعفاء الرجال ، الرقم ۱۷۹۹، مَسْلَمَۃ بن علی ، ج۸، ص۱۹۔
التفسیر الکبیر، النور، تحت الآیۃ ۲، ج۸، ص۳۰۲۔
2…اللباب فی علوم الکتاب لابن عادل الحنبلی ، النور، تحت الآیۃ۲،ج۱۴، ص۲۸۴۔
3…تفسیر
البغوی ، النور، تحت الآیۃ۲،ج۳، ص۲۷۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع