30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنے کا حکم منسوخ ہے جبکہ اکثر علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام اس کا ثبوت پیش کرتے ہیں کیونکہ، حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کوڑے بھی لگائے اور جلاوطن بھی کیا اور حضرات ابو بکر و عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے بھی اسی طرح کیا۔ (۱)
زانیہ کوگھر میں قید رکھنے میں اختلاف:
زانیہ کوگھر میں قید رکھنے میں بھی ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے کہ یہ حد نہیں بلکہ اس کی دھمکی ہے۔ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ فرماتے ہیں : ’’یہ حد ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ابن زیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہنے مزید یہ بھی فرمایا کہ ’’جب انہوں نے غلط طریقہ (یعنی زنا)کے ذریعے نکاح کا مطالبہ کیا تو انہیں سزا کے طور پر نکاح سے باز رکھا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائیں اور یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ نہ صرف حد ہے بلکہ اس سے بھی سخت ہے البتہ! اس کی ایک غایت ہے اور وہ دوسری آیت ِ مبارکہ میں سابقہ دونوں تاویلوں کے اختلاف کے مطابق اَلاَذَی ہے اور ان دونوں کی بھی ایک غایت ہے اور وہ کوڑے لگانا اور رجم کرنا ہے جیسا کہ گزشتہ حدیث ِ پاک میں حضور پُرنورصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے واضح طور پر فرمایا: ’’خُذُوْا عَنِّی۔‘‘ (۲)
متأخرین محققین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکے نزدیک اس صورت میں آیت ِ مبارکہ میں کوئی نسخ نہیں کیونکہ یہ اس آیت ِ مبارکہ کی طرح ہے: ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیۡلِۚ(پ۲، البقرۃ:۱۸۷)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر رات آنے تک روزے پورے کرو۔
پس اس حکمِ ربَّانی سے روزوں کا حکم وقت ختم ہونے کے باعث اُٹھتا ہے نہ کہ منسوخ ہونے کے سبب۔ نیز نسخ کے لئے شرط ہے کہ دو مخالف چیزوں کو جمع کرنا ناممکن ہو جبکہ یہاں قید، جَلا وطنی، کوڑوں اور رجم کو جمع کرنا ممکن ہے جیسا کہ ثابت ہو چکا ہے، پس یہاں متقدمین علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا نسخ کا اطلاق کرنا جائز نہیں۔ بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں :’’کوڑے مارنے کے ساتھ ساتھ ایذا دینے اور جلا وطن کرنے کی سزا باقی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…جامع الترمذی،ابواب الحدود، باب ماجاء فی النفی، الحدیث:۱۴۳۸، ص۱۷۹۸۔
2…اللباب فی
علوم الکتاب لابن عادل الحنبلی ، النساء ، تحت الآیۃ۱۵،ج۶، ص۲۴۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع