30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
برعکس صورت میں ایک چیز کا ایک ہی محل میں دو بار آنا لازم آتا ہے اور یہ برا ہے۔ چوتھی دلیل یہ ہے کہ جو کہتے ہیں یہ آیت ِ مبارکہ زنا کے متعلق ہے، انہوں نے سَبِیۡلًاکی تفسیر کوڑوں ، جَلاوطنی اور رجم سے کی ہے اور یہ چیز عورتوں کے خلاف ہیں نہ کہ ان کے حق میں۔ جبکہ ہم اس کی تفسیر یوں کرتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نکاح کے ذریعے ان کے لئے شہوت پورا کرنا آسان فرما دے، نیز ہمارے مؤقف پرآپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمانِ عبرت نشان دلالت کرتا ہے: ’’جب مرد مرد سے بد فعلی کرے تو وہ دونوں زانی ہیں اور جب عورت عورت سے بدکاری کرے تو وہ دونوں بھی زانیہ ہیں۔‘‘ (۱)
جمہور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے اس کی تردید کرتے ہوئے درج ذیل جوابات دیئے۔ پہلا جواب یہ ہے کہ متقدمین مفسرینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام میں سے کسی نے حضرت سیِّدُنا ابومسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کی تفسیر کے مطابق تفسیر نہیں کی۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ حدیث ِ پاک میں سَبِیۡلًاکی تفسیر یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ ثَیِّبَہ کو سنگسار کیا جائے اور باکرہ کو کوڑے لگائے جائیں اور یہ اس بات پر دلیل ہے کہ یہ آیت ِ مبارکہ زانیوں کے متعلق ہے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ لواطت کے حکم میں صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا اختلاف تھا اور ان میں سے کسی نے بھی اس آیتِ مبارکہ سے استدلال نہیں کیا، پس دلیل کی انتہائی ضرورت کے باوجود ان کا اس سے استدلال نہ کرنا اس بات پر دلیل ہے کہ اسی مؤقف کے دلائل قوی ہیں کہ یہ آیت ِمقدّسہ لواطت کے متعلق نہیں ۔
حضرت سیِّدُنا ابومسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہنے ان کے جوابات کو رد کرتے ہوئے فرمایا: ’’حضرت سیِّدُنا مجاہد عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدنے اسی طرح کہا ہے اوروہ ہمارے اکابر متقدمین مفسرینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام میں سے ہیں۔ نیز اصولِ فقہ میں یہ بات ثابت ہے کہ آیتِ مبارکہ میں ایسی نئی تاویل کرنا جائز ہے جسے سابقہ مفسرینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے ذکر نہ کیا ہواور جمہور مفسرینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا مؤقف آیت ِ مبارکہ کو خبرِ واحد سے منسوخ کرنے کا سبب بنتا ہے اور یہ ممنوع ہے اور صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا مطالبہ یہ تھا کہ کیا لوطی پر حد قائم کی جائے گی؟ اور اس آیت ِ مبارکہ میں یہ حکم نہیں اس لئے وہ اس کی طرف متوجہ ہی نہ ہوئے۔‘‘ (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…شعب الایمان للبیہقی،باب فی تحریم الفروج، الحدیث:۵۴۵۸،ج۴، ص۳۷۵۔
2…اللباب فی
علوم الکتاب لابن عادل الحنبلی ، النساء ، تحت الآیۃ۱۵،ج۶، ص۲۴۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع