30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کا قول اس کی نفی کرتا ہے۔ البتہ! یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کا خلاف معروف نہیں اور اس پر اطلاق کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ دوسری تمام برائیوں سے زیادہ قبیح ہے۔یہاں ایک اعتراض ہے کہ کفر اور قتل کے زنا سے زیادہ برا ہونے کے باوجود ان میں سے کسی کو فاحشہ نہیں کہا گیا۔ جبکہ ہمارا خیال یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو فاحشہ کا نام نہ دینا ممنوع ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ انہیں بھی فاحشہ ہی کہا جائے لیکن ان کو یہ نام نہیں دیا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ کافر بذاتِ خود کفر کو برا نہیں جانتا اور نہ ہی اس کے قبیح ہونے کا اعتقاد رکھتا ہے بلکہ اسے صحیح سمجھتا ہے اور اسی طرح قتل بھی ہے کہ قاتل قتل کر کے فخر محسوس کرتا ہے اور اسے اپنی بہادری سمجھتا ہے، مگر زنا کرنے والا ہر شخص نہ صرف اس کے برا اور فحش ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے بلکہ آخر میں عار بھی محسوس کرتا ہے۔ (۱)
غور و فکر کرنے کی قوتیں :
انسان کی جسمانی قوتوں کو چلانے والی قوتیں 3 ہیں : (۱) قوّتِ ناطقہ (۲)قوّتِ غضبیۃ اور (۳) قوّتِ شھوانیۃپہلی قوت کا فساد کفر و بدعت وغیرہ ہے، دوسری کا فساد قتل وغیرہ ہے جبکہ تیسری قوت سب سے زیادہ بری ہے بلا شبہ اس کا فساد بھی سب سے زیادہ برا ہو گا اسی وجہ سے اس فعل کو خاص طور پرفاحشہ کا نام دیا گیا۔ (۲)
’’اَرْبَعَۃً مِّنۡکُمْ‘‘ یعنی 4 مسلمان۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے دعویٰ کرنے والے پر سختی کرنے کے لئے اور بندوں سے چھپانے کے لئے زنا پر گواہی کے لئے کم از کم 4کی تعداد متعین فرمائی اور یہ حکم تورات اور انجیل میں بھی اسی طرح ثابت ہے۔ (۳)
{2}… حضرت سیِّدُنا جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ یہودی ایک ایسے مرد اور عورت کوسرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ اقدس میں لے کر حاضر ہوئے جنہوں نے زناکیا تھا، آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہودیوں سے فرمایا:’’تم اپنے میں سے سب سے زیادہ علم والے کو میرے پاس لے آؤ۔‘‘ پس وہ دو آدمیوں کو لے آئے تو آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا: ’’تورات میں تم ان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…اللباب فی علوم الکتاب لابن عادل الحنبلی ، النساء ،تحت الآیۃ۲۲، ج۶، ص۲۳۹۔
2…التفسیرالکبیرللرازی ، النساء ، تحت الایۃ۱۵،ج۳، ص۵۲۸۔
3…الجامع
لاحکام القرآن للقرطبی ، النسائ، تحت الآیۃ۱۵،ج۳ ، الجزء
الخامس، ص۵۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع