30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لَہُنَّ سَبِیۡلًا ﴿۱۵﴾وَالَّذٰنِ یَاۡتِیٰنِہَا مِنۡکُمْ فَاٰذُوۡہُمَا ۚ فَاِنۡ تَابَا وَاَصْلَحَا فَاَعْرِضُوۡا عَنْہُمَا ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۶﴾(پ۴النساء:۱۵تا۱۶)
اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے، اور تم میں جو مرد عورت ایسا کریں ان کو ایذا دو پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نیک ہو جائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
وَلَا تَنۡکِحُوۡا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ؕ اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَّمَقْتًا ؕ وَسَآءَ سَبِیۡلًا ﴿۲۲﴾٪(پ۴،النساء:۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو مگر جو ہو گزرا، وہ بے شک بے حیائی اور غضب کا کام ہے اور بہت بری راہ۔
بعض الفاظ ِقرآنیہ کی وضاحت
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آخری آیت ِ مبارکہ میں نکاح بمعنی زنا کے تین برے اوصاف بیان فرمائے جبکہ پہلی آیت ِ طیِّبہ میں زنا کے صرف دو برے وصف بیان فرمائے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ آخری آیت ِ مبارکہ میں مذکور زنا زیادہ برا اور قبیح ہے کیونکہ باپ کی بیوی ماں کی مثل ہے لہٰذا اس سے حرام کاری کرنا انتہائی برا عمل ہے کیونکہ جہلا کی جاہلیت میں بھی ماؤں سے نکاح کرنا تمام گناہوں سے برا تھا،پس فحش کام سب سے زیادہ قبیح گناہ ہے اور’’مَقْت‘‘سے مرادکسی کو حقیر جانتے ہوئے اس سے نفرت کرنا ہے، یہ فحش کام سے خاص ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے بندے کے حق میں انتہائی عذاب اور خسارے پر دلالت کرتا ہے اور وَسَآءَ سَبِیۡلًاکے ساتھ ساتھ مذکورہ برے اوصاف بھی بیان کئے گئے کیونکہ ممانعت سے پہلے بھی زنا ان کے دلوں میں ناپسندیدہ اور برا تھا اور وہ اپنے باپ کی بیوی سے ایسا فعل کرنے سے پیدا ہونے والے بچے کو مُقِیْت کہتے تھے، جبکہ عربوں میں کچھ قبائل ایسے بھی تھے جو اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرتے تھے، یہ عادتِ بد انصار میں لازماً پائی جاتی تھی جبکہ قریش میں باہم رضا مندی سے اس کی اجازت تھی۔ (۱)
برائی کے درجات :
جان لیجئے! برائی کے 3 درجات ہیں : (۱) عقلاً قبیح (۲) شرعاً قبیح اور (۳) عادتاً قبیح۔ پس فَاحِشَۃً سے پہلے درجے یعنی عقلاً قبیح کی طرف اشارہ ہے اور مَقْتًاسے دوسرےدرجے یعنی شرعاً قبیح کی طرف جبکہسَآءَ سَبِیۡلًاسے تیسرے درجے یعنی عادتاً قبیح کی طرف اشارہ ہے۔ جس شخص میں یہ تینوں درجات جمع ہو گئے وہ برائی میں انتہا کو پہنچ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…اللباب فی
علوم الکتاب لابن عادل الحنبلی، النساء ، تحت الآیۃ۲۲،ج۶، ص۲۷۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع