30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدود قائم کرنے اور توڑنے والوں کی مثال :
{9}… حضرتِ سیِّدُنانعمان بن بشیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظَّم ہے: اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حدود کو قائم کرنے والوں اور توڑنے والوں کی مثال ان لوگوں کی سی ہے جنہوں نے کشتی کے حصے باہم تقسیم کرلئے، بعض کواوپروالا حصہ ملا اور بعض کو نیچے والا۔نیچے والوں کوجب پیاس لگتی تو اوپر والوں کے پاس جاناپڑتا۔ انہوں نے کہا: ’’ہم اپنے حصے میں سوراخ کرلیتے ہیں ،اس سے اوپروالوں کو تکلیف نہ دیں گے۔‘‘ اگر اوپروالے ان کوچھوڑدیتے ہیں تو تمام ہلاک ہوجائیں گے، لیکن اگر وہ ان کو روکتے ہیں تویہ بھی بچ جائیں گے اوردیگرتمام لوگ بھی نجات پاجائیں گے۔ (۱)
تنبیہ:اس کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا آخری اور اس سے پہلی حدیث ِ پاک سے واضح ہے، اگرچہ میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے نہیں پایا اور جب حدود میں سفارش کرنے پر وعید کی گئی ہے تو حق پوشی اور غفلت کرتے ہوئے اسے ترک کرنے والا وعید کا مستحق کیوں نہ ہوگا۔
کبیرہ نمبر358: زنا
اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے فضل وکرم سے ہمیں زنا اور دیگر گناہوں سے محفوظ فرمائے۔ (آمین)
قرآنِ حکیم میں زنا کی مذمت:
اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی لاریب کتاب قرآنِ مجید، فرقانِ حمیدمیں زنا کے متعلق فرماتا ہے: وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤی اِنَّہٗ کَانَ فٰحِشَۃً ؕ وَسَآءَ سَبِیۡلًا ﴿۳۲﴾(پ۱۵، بنی اسرا ئیل:۳۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے، اور بہت ہی بری راہ۔
وَالّٰتِیۡ یَاۡتِیۡنَ الْفٰحِشَۃَ مِنۡ نِّسَآئِکُمْ فَاسْتَشْہِدُوۡا عَلَیۡہِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنۡکُمْ ۚ فَاِنۡ شَہِدُوۡا فَاَمْسِکُوۡہُنَّ فِی الْبُیُوۡتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰىہُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللہُ
ترجمۂ کنز الایمان:اور تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کریں ان پر خاص اپنے میں کے چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح
البخاری،کتاب الشرکۃ،باب ہل یقرع فی القسمۃ والاستہام فیہ؟ ، الحدیث:۲۴۹۳،ص۱۹۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع