30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرتے ہوئے نہیں پایااور اس کے کبیرہ گناہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اپنی نیکیاں ظاہر کرنا اور برائیاں چھپانا جس کی عادت ہو وہ مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتاہے اور گمراہ کرتاہے۔کیونکہ اس کی گردن سے تقویٰ اور خوف کا پٹا کُھل جاتاہے۔
کبیرہ نمبر357: حدود قائم کرنے میں سُستی کرنا
حد نافذ کرنے کی برکات:
{1}… حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سیِّدعالم ،نُورِ مجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ جو حد(یعنی شرعی احکام کے مطابق سزا) زمین میں قائم کی جاتی ہے وہ اہلِ زمین کے لئے صبح کی 30 بارشیں برسنے سے بہتر ہے۔‘‘ (۱)
{2}…ایک روایت میں ہے کہ رحمت ِ عالم ،نُورِ مجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’زمین پر حد قائم کرنا اہلِ زمین کے لئے 40 راتوں کی بارش سے بہتر ہے۔‘‘ (۲)
{3}…حضورنبی ٔمُکَرَّم،نُورِ مجسَّمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جس حد پر زمین میں عمل کیا جاتا ہے وہ اہلِ زمین کے لئے صبح کی 40 بارشیں برسنے سے زیادہ مفیدہے۔‘‘ (۳)
{4}… رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’زمین پر حد قائم کرنا اہلِ زمین کے لئے صبح کی 40 بارشوں سے بہتر ہے۔‘‘ (۴)
{5}… حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمتصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حدود میں سے کوئی حد قائم کرنا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے شہروں میں 40 راتوں کی بارش سے بہتر ہے۔‘‘ (۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن النسائی،کتا ب قطع السارق،باب الترغیب فی اقامۃ الحد،الحدیث:۴۹۰۸،ص۲۴۰۵،بتغیرٍ۔
2…سنن النسائی،کتا ب قطع السارق،باب الترغیب فی اقامۃ الحد ، الحدیث:۴۹۰۹،ص۲۴۰۵۔
3…سنن ابن ماجہ، ابواب الحدود،باب اقامۃ الحدود، الحدیث:۲۵۳۸،ص۲۶۲۹۔
4…الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،کتا ب الحدود ،الحدیث:۴۳۸۱،ج۶،ص۲۹۰۔
5…سنن ابن ماجہ،ابواب الحدود ،باب اقامۃ الحدود ،الحدیث:۲۵۳۷،ص۲۶۲۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع