30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لئے پسند کرو(کامل)مسلمان ہوجاؤگے(۵)…اور زیادہ نہ ہنسا کرو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کرتا ہے۔‘‘(۱)
{6}…حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ،حضور سید عالم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’میں تمہیں تمہاری پشتوں سے پکڑتاہوں اورکہتاہوں :جہنم سے بچواورحدود (توڑنے)سے ڈرو! جہنم سے بچواورحدود(توڑنے)سے ڈرو!‘‘یہ بات تین بارفرمائی،پھرارشادفرمایا:’’جب میں دنیا سے چلاجاؤں گا تو تمہیں چھوڑ جاؤں گااور حوضِ (کوثر ) پر تمہارا فَرَط(یعنی پیش رو) ہوں گا، جو وہاں حاضر ہوگیا وہ کامیاب ہو گیا(۲)۔‘‘ (۳)
اللہ عَزَّوَجَلَّ غَـــــیُور ہے:
{7}…نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ غیرت فرماتا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی غیرت یہ ہے کہ بندۂ مومن اس کی حرام کردہ چیزوں کا ارتکاب کرے۔‘‘ (۴)
تنبیہ:
اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کرناپہلی حدیث ِ پاک سے واضح ہے اوریہ بعید نہیں اگرچہ میں نے کسی کو اس کا ذکر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…جامع الترمذی، ابواب الزھد، باب من اتقی المحارم فہو اعبد الناس،الحدیث:۲۳۰۵،ص۱۸۸۴۔
2…مفسر شہیر حکیم الامت حضرت علامہ مولانا مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحنَّانمراٰۃ المناجیح ،جلد8، صفحہ286پرحدیث ِ پاک میں مذکورلفظ ِ فَرَط کی تشریح وتحقیق کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں : ’’فَرَطٌبمعنی فَارِطٌہے جیسے تَبَعٌ بمعنی تَابِعٌ، فرط وہ شخص ہے جوکسی جماعت سے آگے منزل پرپہنچ کران کے طعام، قیام وغیرہ تمام ضروریات کاانتظام کرے جس سے وہ جماعت آکر ہر طرح آرام پائے۔ مطلب یہ ہے کہ میں تم سے پہلے جارہاہوں تاکہ تمہاری شفاعت، تمہاری نجات، تمہاری ہرطرح کارسازی (یعنی مدد)کروں ، تم میں سے جوبھی ایمان پرفوت ہوگاوہ میرے پاس میری حفاظت، میرے انتظام میں اس طرح آوے گا جیسے مسافراپنے گھرآتاہے ،بھرے گھرمیں۔ (اَشِعَّۃُ اللَّمْعَات،ج۴،ص۶۱۸)مومن مرتے ہی حضور(صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے پاس پہنچتاہے، بلکہ بعض مومنوں کی جانکنی کے وقت خود حضور انور (صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)انہیں لینے تشریف لاتے ہیں جیساکہ امام(محمد بن اسماعیل) بخاری (عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی)کاواقعہ ہوا،اوربہت مرنے والوں سے(نزاع کے وقت) سنا گیاحضور (صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)آگئے۔خیال رہے کہ چھوٹے فوت شدہ بچوں کوبھی ’’فرط‘‘ فرمایاگیاہے مگروہ ’’فرطِ ناقص‘‘ ہیں۔ حضور انور(صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)’’فرطِ کامل‘‘ یعنی ہرطرح کے منتظم، حضور(صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اپنی امت کے دائمی منتظم ہیں۔‘‘
3…المعجم الکبیر، الحدیث:۱۲۵۰۸،ج۱۲، ص۵۶۔ المعجم الاوسط،الحدیث:۲۸۷۴،ج۲، ص۱۶۰۔
4…صحیح
مسلم،کتاب التوبۃ، باب غیرۃ اﷲتعالٰی وتحریم الفواحش ،الحدیث:۶۹۹۵،ص۱۱۵۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع