30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{22}…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ارشاد فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس بیٹھی تھی، میں نے ایک عورت کے بارے میں کہا: ’’یہ لمبے دامن والی ہے۔‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اِلْفَظِیْ اِلْفَظِیْیعنی جو کچھ تیرے منہ میں ہے نکال پھینک۔‘‘ تو میں نے منہ سے گوشت کا ٹکڑا نکال کر پھینکا۔‘‘ (۱)
{23}…حضرت سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :اللہ عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک دن لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا:’’جب تک میں اجازت نہ دوں تم میں سے کوئی شخص افطار نہ کرے۔ ‘‘ لہٰذالوگوں نے روزہ رکھایہاں تک کہ جب شام ہوئی تو ہر آدمی آتا اور عرض کرتا: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں پورا دن روزے سے رہا ہوں ، لہٰذا مجھے افطار کرنے کی اجازت دیجئے۔‘‘ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماسے اجازت عطا فرما دیتے یہاں تک کہ ایک شخص آیا اور عرض گزار ہوا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے گھر والوں میں سے دونوجوان لڑکیاں بھی ہیں جنہوں نے روزہ رکھا ہے اور وہ آپ صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہونے سے شرماتی ہیں ،آپ انہیں افطار کرنے کی اجازت عطا فرما دیجئے۔‘‘ حضور صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے چہرۂ اقدس پھیر لیا۔ وہ دوبارہ آیا مگر آپ صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چہرۂ انور پھیر لیا۔ وہ پھر آیا تو آپصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے رُخ انور پھیرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’ان دونوں نے روزہ رکھا ہی نہیں اور اس کاروزہ کیسے ہو سکتا ہے جو آج پورا دن لوگوں کا گوشت کھاتا(یعنی غیبت کرتا) رہا ہو؟جاؤ اور انہیں حکم دو کہ اگر واقعی انہوں نے روزہ رکھا ہے تو قے کریں۔‘‘ وہ آدمی واپس چلا گیا اور جاکر انہیں حضور صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاحکم سنایا۔ جب انہوں نے قے کی تو دونوں کی قے میں خون کا لوتھڑا نکلا ۔ وہی شخص دوبارہ بارگاہِ مصطفی میں حاضر ہوا اور صورت حال بتائی توآپصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے(باذنِ پروردْگار غیب کی خبر دیتے ہوئے) ارشاد فرمایا:’’اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اگر یہ دونوں اپنے پیٹوں میں اس کو باقی رکھتیں تو ان دونوں کو جہنم کی آگ کھا جاتی۔‘‘ (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا،کتاب الصمت۔۔الخ،باب تفسیر الغیبۃ ،الحدیث:۲۱۶،ج۷،ص۱۴۵۔
2…موسوعۃ
الامام ابن ابی الدنیا،کتاب الغیبۃ والنمیمۃ ،باب الغیبۃ وذمہا ،الحدیث:۳۱،ج۴،ص۳۴۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع