30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
والے کے لئے مستحب ہے کہ اپنے گناہ کو چھپائے تا کہ اس کے ظاہر ہونے کے سبب اسے حد نہ لگائی جائے اور نہ ہی تعزیر کی جائے۔‘‘ چنانچہ،
{15}…سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جو اِن (یعنی زناوغیرہ) میں سے کسی برائی میں ملوَّث ہو جائے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پردے میں چھپا رہے جو ہمارے سامنے اپنا پردہ فاش کرے گا ہم اس پر حد قائم کریں گے۔‘‘(۱)
قاتل یا تہمت لگانے والے کا معاملہ اس کے برعکس ہے کیونکہ ان پر اعتراف کرنا لازم ہے تاکہ ان سے پورا پورا بدلہ لیا جائے اس لئے کہ بندوں کے حقوق میں سختی کی گئی ہے اور مذاق یا دشمنی کرتے ہوئے کسی کے گناہ کو بیان کرنا بھی اس کے برعکس ہے کیونکہ یہ صحیح احادیثِ مبارکہ کی رو سے قطعی طور پر حرام ہے۔ کسی گناہ کی گواہی دینے والے کے لئے پردہ پوشی کرنا سنت ہے کہ اگر وہ گواہی نہ دینے میں مصلحت دیکھے تو نہ دے اور اگر دینے میں مصلحت دیکھے تو دے دے اور اگر کسی میں مصلحت نہ پائے تو بھی گواہی نہ دینا بہتر ہے۔ اس تفصیل کے مطابق ایک دوسرے مقام پر علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے اطلاق کو ترکِ شہادت کے مستحب نہ ہونے پر محمول کیا جائے پھر ترکِ شہادت کے مستحب ہونے کو اس صور ت پر محمول کیا جائے کہ اس کے ترک کرنے سے کسی دوسرے پر حد کاواجب کرنا معلَّق نہ ہو اور اگر حد کا وجوب اس پر معلَّق ہو مثلاً تین گواہ زنا کی گواہی دیں تو چوتھا گواہی نہ دینے کی وجہ سے گنہگار ہو گا اور اس پر گواہی لازم ہو گی۔
حضرت سیِّدُنا امامُ الحرمین عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْکَوْنَـیْنفرماتے ہیں : ’’اس ضعیف قول کہ ’’حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔‘‘ کی بنا پرشافعی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا اتفاق ہے کہ جس نے حد کو واجب کرنے والے گناہ کا ارتکاب کیا اس پر لازم ہے کہ(توبہ کے ساتھ ساتھ) گناہ کا اقرار بھی کرے یہاں تک کہ اس میں کوئی احتمال ہو۔‘‘ حضرت سیِّدُنا امام محی الدین ابوزکریا یحییٰ بن شرف نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۶۷۶ھ) نے اس کو رد کرتے ہوئے فرمایا:’’صحیح یہ ہے کہ حد کے موجب گناہ کے مرتکب پر گناہ کا اقرار کرنا لازم نہیں اور اس ضعیف قول کی بنا پر توبہ سے ظاہراً (یعنی شرعاً) حد ساقط نہیں ہوتی، البتہ! باطناً (یعنی عنداللہ) توبہ گناہ کو ختم کردیتی ہے۔‘‘
۞۞۞۞۞۞۞
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الموطا
للامام مالک،کتاب الحدود،باب ماجاء فیمن اعترف ۔۔الخ،الحدیث:۱۵۸۸،ج۲،ص۳۳۶،بتغیرٍ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع