30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کسی مسلمان کے خلاف کوئی بات عام کی جبکہ وہ اس سے بری ہو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر حق ہے کہ اسے قیامت کے دن جہنم میں پگھلائے یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات کو ثابت کرے۔‘‘ (۱)
جھوٹا خواب بیان کرنے کی سزا:
{6}…حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے،سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جس کی سفارش حُدُوداللہ میں سے کسی حد میں حائل ہوئی اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس کے مُلک میں مقابلہ کیا اور جس نے جھگڑے میں کسی کی مدد کی حالانکہ وہ نہیں جانتا کہ وہ حق پر ہے یا باطل پر، تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی میں رہے گا یہاں تک کہ اس سے الگ ہوجائے اور جو کسی ایسی قوم کے ساتھ چلا جو سمجھتی ہو کہ یہ گواہ ہے حالانکہ وہ گواہ نہ ہو تو وہ جھوٹے گواہ کی طرح ہے اور جس نے جھوٹاخواب بیان کیا (بروزِ قیامت)اُسے پابند کیا جائے گا کہ جَو کے دانے کے دونوں کناروں کے درمیان گانٹھ لگائے اور مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اُسے (حلال جان کر) قتل کرنا کفر ہے۔‘‘ (۲)
تنبیہ:اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا پہلی اور دوسری حدیث ِپاک سے واضح اور ظاہر ہے اگرچہ میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حدود میں سے کسی حد کو ترک کرنا بہت بڑا فساد ہے۔ اسی وجہ سے حدیث میں گزرا کہ،
{7}…اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان عالیشان ہے: ’’زمین میں حق کے مطابق قائم کی جانے والی حد صبح کی 40بارشوں سے زیادہ پاک کرنے والی ہے۔‘‘ (۳)
حضرت سیِّدُنا امام جلال بلقینی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیکا گزشتہ کلام میرے اس مؤقف کی تائید کرتا ہے، پھرمیں نے کچھ دیگر علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کو پایا کہ انہوں نے میرے ذکرکردہ مؤقف کی تصریح کی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الترغیب والترھیب،کتاب القضائ،باب الترھیب من اعانۃ المبطل…الخ ،الحدیث:۳۴۳۹،ج۳،ص۱۵۱۔
2…المعجم الاوسط ،الحدیث:۸۵۵۲،ج۶،ص۲۱۴۔
3…المعجم الاوسط، الحدیث:۴۷۶۵،ج۳،ص۳۳۴۔
المعجم الکبیر،الحدیث:۱۱۹۳۲،ج۱۱،ص۲۶۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع