30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کِتَابُ الرِّدَّۃ
کبیرہ نمبر352: کسی مسلمان کو کہنا: اے کافر!
کبیرہ نمبر353: کسی مسلمان کو کہنا:ایاللہ عَزَّوَجَلَّکے دُشمن!
(اگر قائل کا مقصد صرف گالی دینا ہو نہ کہ اسلام کو کفرکہنا تواس کی تکفیر نہیں کی جائے گی)
مسلمان کو کافر کہنے والا کافر ہے:
{1}…حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوف رَّحیمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’جس نے کسی شخص کو کافر یا اللہ عَزَّوَجَلَّ کا دشمن کہا ،اور وہ اس طرح نہ تھا تو کہنے والے کا قول اسی پر لوٹ آئے گا۔‘‘ (۱)
{2}…سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ معظَّم ہے: ’’جس نے کسی مومن کو کافر کہا تو یہ اسے قتل کرنے کی طرح ہے۔‘‘ (۲)
تنبیہ:اس میں شدید وعید ہے اور وہ یہ کہ اس پرکفر کا لوٹ آنا یا اس کا خود ہی دشمنِ خدا ٹھہرنا ہے نیز یہ گناہ قتل کی مثل ہے۔ پس کسی کو کافر یا دُشمنِ خدا کہنا یا تو کفر ہے یعنی اگر اس نے کسی مسلمان کو اسلام سے متَّصف ہونے کی وجہ سے کافر یا اللہ عَزَّوَجَلَّ کا دشمن کہا تو اس نے اسلام کو کفر کا نام دیا اوریہ بات اس کے دشمنِ خدا ہونے کا تقاضا کرتی ہے جوکہ کفر ہے۔یا یہ (یعنی کافر یا دُشمنِ خدا کہنا) کبیرہ گناہ ہے یعنی جب کہنے والا مذکورہ ارادہ نہ کرے تواس کی طرف یہ شدید عذاب اور گناہ کی صورت میں لوٹے گا اور یہ کبیرہ گناہوں کی علامات میں سے ہے۔اس وضاحت سے ان دونوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا واضح ہو گیااگرچہ میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا،البتہ! میں نے بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کو دیکھا کہ انہوں نے کسی مسلمان کو کافر کہنے کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیااور اگر اس نے کسی مسلمان سے کہا: ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا ایمان چھین لے یا اس طرح کے کلمات کہے تو بعض متأخرین کی ترجیح کے مطابق اس نے کفر کیا۔‘‘ جبکہ اس کتاب کے شروع میں اس کے خلاف گزر چکا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم کتاب الایمان ،باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم:یا کافرً!،الحدیث:۲۱۷،ص۶۹۱۔
2…صحیح البخاری،کتاب الادب،باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل فہوکما قال،الحدیث:۶۱۰۵،ص۵۱۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع