30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کبیرہ نمبر351: بدعتیوں کو پناہ د ینا
یعنی انہیں ان لوگوں سے بچانا جو ان سے اپنا پورا حق وصول کرنا چاہتے ہیں اور بدعتیوں سے مراد
وہ لوگ ہیں جو ایسی برائی میں منہمک ہوتے ہیں جس کی وجہ سے کوئی شرعی حکم لازم ہو جاتا ہے
حضرت سیِّدُنا جلال بلقینیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیکی وضاحت کے مطابق اسے بھی کبیرہ گناہ شمار کیا گیا ہے اور یہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی روایت سے واضح ہے۔چنانچہ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’مجھ سے حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمتصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے 4 کلمات بیان فرمائے۔‘‘ (راوی فرماتے ہیں :) میں نے عرض کی: ’’اے امیر المؤمنین! وہ کون سے ہیں ؟‘‘ ارشاد فرمایا:’’(۱)… اللہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص پر لعنت فرمائے جو غیراللہ کے نام پر ذبح کرے(جیسے بتوں کے نام پر)(۱)(۲)… اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر لعنت فرمائے جو اپنے والدین پر لعنت بھیجے (۳)…اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر لعنت فرمائے جو کسی بدعتی کو پناہ دے اور(۴)… اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر بھی لعنت فرمائے جو زمین کی علامات وحدود تبدیل کر دے۔‘‘(۲)
۞۞۞۞۞۞۞
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…خلیفۂ اعلیٰ حضرت سیِّدُنا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیتفسیر خزائن العرفان میں پارہ2،البقرۃ:173 ’’وَمَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللہِ‘‘ کے تحت نقل فرماتے ہیں : ’’جس جانور پر وقت ِ ذبح غیرِ خدا کا نام لیا جائے خواہ تنہا یا خدا کے نام کے ساتھ عطف سے ملا کر وہ حرام ہے اور اگر نامِ خدا کے ساتھ غیر کا نام بغیر عطف ملایا تو مکروہ ہے۔ اگر ذبح فقط اللہ کے نام پر کیا اور اس سے قبل یا بعد غیر کا نام لیا مثلاً یہ کہا کہ عقیقہ کا بکرا، ولیمہ کا دنبہ یا جس کی طرف سے وہ ذبیحہ ہے اسی کا نام لیا یا جن اولیاء کے لئے ایصالِ ثواب منظور ہے ان کا نام لیا تو یہ جائز ہے، اس میں کچھ حرج نہیں۔‘‘ (تفسیراتِ احمدیہ، ص۴۴)
2…صحیح مسلم،کتاب الاضاحی،باب تحریم الذبح لغیر اﷲ تعالی ولعن فاعلہ، الحدیث:۵۱۲۴،ص۱۰۳۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع