30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{18}…نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:سود72گناہوں کامجموعہ ہے اور ان میں سے اد نیٰ ترین اپنی ماں سے زنا کرنے کی طرح ہے اور بے شک سود سے بڑھ کر گناہ کسی مسلمان کی بے عزتی کرنا ہے۔‘‘ (۱)
{19}… سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’سود کے 70 سے زائد دروازے ہیں، ان میں سب سے کم یہ ہے کہ کوئی مسلمان اپنی ماں سے زنا کرے اور سود کا ایک درہم 35 بار زنا کرنے سے زیادہ برا ہے اور سود سے بڑھ کرگناہ اور خباثت مسلمان کی عزت و حرمت کو ختم کرنا ہے۔‘‘ (۲)
{20}…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ارشاد فرماتی ہیں کہ میں نے دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کی:’’آپ کے لئے حضرت صفیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی فلاں فلاں خوبیاں ہی کافی ہیں۔‘‘ بعض راویوں نے کہا:’’ یعنی ان کا پست قد ہونا۔‘‘ تو آپ صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر اسے سمندر میں گھولا جائے تو اسے بھی بدبودار کر دے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی:’’میں نے تو ایک انسان کی حکایت ہی بیان کی ہے۔‘‘ تو آپ صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’میں کسی انسان کی حکایت کو پسند نہیں کرتا خواہ مجھے اتنا اتنا مال بھی ملے۔‘‘ (۳)
{21}…حضرت سیِّدَتُنا سُمَیَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ’’اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا صفیہ بنت حیی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا اونٹ بیمار ہو گیا جبکہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا زینب بنت جحشرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے پاس ایک اونٹ زائد تھا تو سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا زینب بنت جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے ارشاد فرمایا:’’ایک اونٹ انہیں دے دو۔‘‘ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا زینب بنت جحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے جواب دیا:’’میں اس بنت یہودی کو دے دوں۔‘‘ تو سرکارِ مدینہ، راحت ِ قلب و سینہصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کی اس بات پر ناراض ہو گئے جس کے باعث ذوالحجہ، محرم اور صفر کے کچھ دنوں تک ان سے کلام نہ کیا۔‘‘ (۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الاوسط ،الحدیث:۷۱۵۱،ج۵،ص۲۲۷۔
2…الدر المنثور،پ۲۶،الحجرات،تحت الایۃ۱۲،ج۷،ص۵۷۴۔
3…سنن ابی داود ،کتاب الادب ،باب فی الغیبۃ ،الحدیث:۴۸۷۵،ص۱۵۸۱۔
4…سنن ابی
داود ،کتاب السنۃ ،باب ترک السلام علی أہل الأہواء ،الحدیث:۴۶۰۲،ص۱۵۶۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع