30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۲۲۷﴾٪(پ۱۹، الشعراء:۲۲۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔‘‘ (۱)
ظالموں کے لئے عبرت ہی عبرت:
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کا بیان ہے، میں نے ایک شخص کو دیکھاجس کے ہاتھ کندھوں سے کٹے ہوئے تھے وہ بآواز بلند کہہ رہا تھا: ’’جو مجھے دیکھ لے وہ ہر گز کسی پر ظلم نہ کرے گا۔‘‘میں اس کی طرف بڑھا اور پوچھا:’’اے میرے بھائی! تیرا کیا واقعہ ہے؟‘‘ تو اس نے جواب دیا: ’’میرا واقعہ بہت عجیب ہے اور وہ یہ ہے کہ میں ظالموں کے مددگاروں میں سے تھا، میں نے ایک دن ایک شکار کرنے والے کو دیکھا اس نے ایک بہت بڑی مچھلی شکار کی جو مجھے بھلی لگی، میں اس کے پاس گیا اور کہا: یہ مچھلی مجھے دے دو۔‘‘ اس نے کہا: ’’میں نہیں دوں گا بلکہ اسے بیچ کر اپنے بچوں کے لئے کھانا خریدوں گا۔‘‘ میں نے اسے مارا اور زبردستی اس سے مچھلی لے کر چل پڑا۔
مچھلی اٹھائے جاہی رہا تھا کہ اس نے میرے انگوٹھے پر بہت سختی سے کاٹا۔ پھر جب گھر آکر میں نے اسے اپنے ہاتھ سے نیچے پھینکا تو اس نے (تڑپتے ہوئے) میرے انگوٹھے پر اس زور سے ضرب لگائی اور شدید تکلیف پہنچائی یہاں تک کہ تکلیف کی شدت سے رات بھر سو نہ سکا اور میرا ہاتھ سُوج گیا، جب میں صبح اُٹھا تو ڈاکٹر کے پاس گیا اور اسے درد کی شکایت کی تو وہ بولا: ’’یہ جِلدی (یعنی عضو کو کھا جانے والی) بیماری کی ابتدا ہے، میں اسے کاٹ دیتاہوں ورنہ تمہارا پورا ہاتھ ضائع ہو جائے گا۔‘‘ پس میرا انگوٹھا کاٹ دیاگیا، پھر میرے ہاتھ کو چوٹ لگی اور مجھے شدتِ تکلیف سے نہ نیند آئی اور نہ ہی سکون ملا تو مجھے کہا گیا: ’’اپنی ہتھیلی کاٹ دو۔‘‘ میں نے اسے کاٹ دیا لیکن درد کلائی کی طرف منتقل ہو گیا اورسخت تکلیف کے باعث میں سو نہ سکا اور نہ ہی مجھے سکون آیا لہٰذا شدتِ تکلیف سے چلانے لگا، پھر مجھے کہا گیا: ’’کلائی بھی کہنی سے کاٹ دو۔‘‘ لہٰذا میں نے اسے بھی کاٹ دیا لیکن درد بازو کی طرف منتقل ہو گیا اور اَب بازو میں شدید تکلیف ہونے لگی، پھر کہا گیا: ’’اپنے ہاتھ کو کندھے سے کاٹ دو ورنہ یہ بیماری تمہارے تمام جسم میں سرایت کرجائے گی۔‘‘ پس میں نے اسے بھی کاٹ دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…کتاب
الکبائرللذہبی، الکبیرۃ السادسۃ والعشرون الظلم ،فصل فی الحذر…الخ ،ص۱۲۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع