30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسے جنت میں داخل فرما دے گا اور اگر وہ بندہ بدبخت ہوا اور اس کی کوئی نیکی نہ بچی تو فرشتے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کریں گے:’’اے ہمارے پروردگارعَزَّوَجَلَّ ! اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں مگر مطالبہ کرنے والے ابھی باقی ہیں۔‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’ان لوگوں کے گناہ لے کر اس کے گناہوں میں ملا دو پھر اسے زور سے مارتے ہوئے جہنم میں پھینک دو۔‘‘ (۱)
حقیقی مفلس:
گزشتہ روایت کی تائید یہ حدیث پاک کرتی ہے۔ چنانچہ، سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا: ’’کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟‘‘ پھر خود ہی ارشاد فرمایا: ’’میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا اور اس نے اِس کو گالی دی ہو گی اور اُس کو مارا ہو گا اوراِس کا مال لیا ہو گا، پس یہ بھی اس کی نیکیوں میں سے لے لے گا اور وہ بھی اس کی نیکیوں میں سے لے لے گا، پھر اگر حقوق پورے ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دئیے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔‘‘ (۲)
مزدور کی اُجرت نہ دینا ظلم ہے:
اسی طرح مزدور کو اس کی مزدوری نہ دینا بھی ظلم ہے۔ جیسا کہ اس کی دلیل گزر چکی ہے کہ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: ’’ میں قیامت کے دن 3 آدمیوں کا مقابل ہوں گا: (۱) جو میرے نام پر عہد کرے پھر اس کی خلاف ورزی کرے (۲) جو آزاد شخص کو بیچ کر اس کی قیمت کھائے اور (۳) جو کسی شخص کو اجرت پر رکھے، اس سے پورا کام لے مگراس کی مزدوری ادا نہ کرے ۔‘‘ (۳)
کافر کامال زبردستی لینا ظلم ہے:
کسی یہودی یا نصرانی پر زیادتی کرنا بھی ظلم ہے یعنی جبراً اس کا مال لے لینا کیونکہ حضور نبی ٔاکرم صلَّی اللہ تَعَالٰی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الزہد لابن المبارک، باب فضل ذکر اﷲ، الحدیث:۱۴۱۶،ص۴۹۷، بتغیرٍقلیلٍ۔
2…صحیح مسلم ،کتاب البروالصلۃ والادب،باب تحریم الظلم، الحدیث:۶۵۷۹،ص۱۱۲۹،بتغیرٍقلیلٍ۔
3…صحیح
البخاری،کتاب البیوع، باب اثم من باع حرًّا، الحدیث:۲۲۲۷،ص۱۷۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع