30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(چنانچہ،اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:) وَ لَایَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا ﴿٪۴۹﴾(پ۱۵، الکھف:۴۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
{52}…نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’جس نے کسی کو ظلما ً ایک کوڑا مارا بروزِ قیامت اس سے بھی قصاص لیا جائے گا۔‘‘ (۱)
انوکھاسبق:
بیان کیا جاتاہے کہ کِسریٰ(ایران کے بادشاہ )نے اپنے بیٹے کے لئے ایک استاذ مقرر کیا جو اسے تعلیم دیتا اور ادب سکھاتا۔ جب لڑکا مکمل طور پر علم و ادب سیکھ گیا تو ایک دن استاذ صاحب نے اُسے بلایا اور بغیر کسی جرم اور سبب کے اُسے زوردار تھپڑ لگا دیااس وجہ سے بچے نے دل میں استاذ کا کینہ رکھ لیا یہاں تک کہ جب وہ بڑا ہوا اور اس کا باپ مر گیا تو وہ مملکت کا والی بن گیا۔ اب اس نے استاذ کو بلایا اور پوچھا:’’فلاں دن بغیر کسی جرم کے آپ کو کس چیز نے مجھے مارنے پر ابھارا تھا؟‘‘ استاذ صاحب نے کہا:’’اے بادشاہ سلامت! جان لیجئے! جب تم نے مکمل طور پر علم وادب سیکھ لیا اور میں نے جان لیاکہ تم اپنے باپ کے بعد بادشاہت پا لو گے تو میں نے چاہا کہ تمہیں سزا اور ظلم کے درد کا مزا چکھا دوں تا کہ تم اس کے بعد کسی پر ظلم نہ کرو۔‘‘ تو اس نے کہا:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے(آمین)۔‘‘ اور پھر استاذ صاحب کو انعام و اکرام دے کر روانہ کرنے کا حکم دیا۔ (۲)
جیسا کہ میں نے گزشتہ ایک عنوان میں ذکر کیا تھا کہ ٹیکس لینا اور یتیم کا مال کھانا بھی ظلم ہے اور ان دونوں پر کافی وشافی کلام گزر چکا ہے۔
بہانہ با زی کرناظلم ہے:
ادائیگی کی قدرت کے باوجود کسی کا حق دینے میں ٹال مٹول کرنا ظلم میں داخل ہے۔ چنانچہ،
{53}…صحیح بخاری ومسلم میں ہے، سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الاوسط، الحدیث:۱۴۴۵،ج۱،ص۳۹۴۔
2…کتاب
الکبائرللذہبی،الکبیرۃ السادسۃ والعشرون:الظلم ،ص۱۲۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع