30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عالیشان ہے: ’’بے شک کسی مسلمان کی ناحق بے عزتی کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔‘‘ (۱)
{14}…تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوتصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’سود 70گناہوں کامجموعہ ہے اور ان میں سب سے کم یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی ماں سے بدکاری کرے اور سود سے بڑھ کرگناہ مسلمان کی بے عزتی کرنا ہے۔‘‘ (۲)
{15}…حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاکصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے دریافت فرمایا:’’کیا تم جانتے ہو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک سود سے بڑا گناہ کون سا ہے؟‘‘ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی:’’اللہُ وَرَسُوْلُــہٗ اَعْلَمُیعنی اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کا رسول صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔‘‘ تو آپ صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک سود سے بڑھ کر گناہ مسلمان کی عزت کو حلال سمجھناہے۔‘‘ پھرآپصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ آیت ِ کریمہ تلاوت فرمائی: وَالَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکْتَسَبُوۡا فَقَدِ احْتَمَلُوۡا بُہۡتٰنًا وَّ اِثْمًا مُّبِیۡنًا (پ۲۲، الاحزاب:۵۸)
ترجمۂ کنزالایمان:اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلاگناہ اپنے سر لیا۔ (۳)
{16}…ابو داؤد شریف میں ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک سود سے بڑھ کر گناہ مسلمان کی ناحق بے عزتی کرنا ہے ۔‘‘ (۴)
{17}…حضرت سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔ کریم صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سود کی قباحت کا ذکر کیا اور ارشاد فرمایا:’’آدمی کو ملنے والا سود کا ایک درہم اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک 36بار زنا کرنے سے زیادہ برا ہے اور بے شک سود سے بڑھ کر گناہ کسی مسلمان کی بے عزتی کرنا ہے۔‘‘ (۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن ابی داود ،کتاب الأدب ،باب فی الغیبۃ ،الحدیث:۴۸۷۷،ص۱۵۸۱،’’الرجل‘‘بدلہ’’المرئ‘‘۔
2…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا،کتاب الصمت ۔۔الخ ،باب الغیبۃ وذمہا ،الحدیث:۱۷۳،ج۷،ص۱۲۵۔
3…شعب الایمان للبیھقی ،باب فی تحریم أعراض الناس ،الحدیث:۶۷۱۱،ج۵،ص۲۹۸،بتغیرٍقلیلٍ۔
4…سنن ابی داود ،کتاب الأدب ،باب فی الغیبۃ ،الحدیث:۴۸۷۶،ص۱۵۸۱۔
5…موسوعۃالامام ابن ابی الدنیا،کتاب الغیبۃ والنمیمۃ ،باب الغیبۃ وذمہا ،الحدیث:۳۶،ج۴،ص۳۴۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع