30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اِذَا مَا الظَّلُوْمُ اسْتَوْطَأَ الْاَرْضَ مَرْکَبًا وَلَجَّ غُلُوًّا فِیْ قَبِیْحِ اِکْتِسَابِہٖ
فَکِلْہٗ اِلٰی صَرْفِ الزَّمَانِ فَاِنَّہٗ سَیُبْدِیْ لَہٗ مَا لَمْ یَکُنْ فِیْ حِسَابِہٖ
ترجمہ: (۱)…جب ظالم ظلم کو نرم ونازک سواری پاتا ہے تو اپنے برے عمل میں حد سے بڑھ جاتا ہے۔
(۲)…پس اس معاملے کو زمانے کے سپرد کردے، بے شک زمانہ اس کے لئے وہ چیز ظاہر کر دے گا جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں۔
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ فرماتے ہیں : ’’ کمزوروں پر ہر گز ظلم نہ کرو ورنہ کسی دن برے طاقتورلوگوں میں سے ہوجاؤ گے۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’بے شکحُبَارٰی (یعنی سُرخاب نامی پرندہ) ظالم کے ظلم کی وجہ سے لاغری و کمزوری کی حالت میں اپنے گھونسلے میں ہی مر جاتا ہے۔‘‘ (۲)
ظالم کی سزا:
منقولہے، تورات میں لکھا ہے کہ ’’پل صراط کے پیچھے سے ایک منادی ندا کرے گا: اے ظلم وسرکشی کرنے والو! اے عیش پرست بد بختو! بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی عزت کی قسم کھاتا ہے کہ کسی ظالم کا ظلم آج یہ پل پار نہ کر سکے گا۔‘‘ (۳)
{47}… حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ جب حبشہ کے مہاجرین حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس لوٹ کر آئے تو آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا: ’’کیا تم مجھے بتاؤ گے کہ تم نے سرزمینِ حبشہ میں کون سی عجیب چیز دیکھی؟‘‘ حضرت سیِّدُنا قتیبہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی ان میں شامل تھے، انہوں نے عرض کی: جی ہاں ! یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ایک دن ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں کی ایک ضعیف ُ العمر خاتون ہمارے پاس سے گزری جس نے اپنے سر پر پانی کا ایک مٹکا اٹھا رکھا تھا، جوں ہی وہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…کتاب الکبائرللذہبی، الکبیرۃ السادسۃ والعشرون:الظلم،ص۱۱۸،۱۱۹۔
2…تفسیر الطبری ، النحل ،تحت الآیۃ۶۱، الحدیث:۲۱۶۶۹،ج۷،ص۶۰۱۔
3…کتاب
الکبائرللذہبی ،الکبیرۃ السادسۃ والعشرون:الظلم ،ص۱۱۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع