30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور یہ ظاہر ہے اگرچہ میں نے کسی کو پہلے اور آخری گناہ کے علاوہ کسی کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا۔ پھر میں نے دیکھا کہ بعض علما نے چوتھے گناہ کو ذکر کیا اور اس کا عنوان یہ قائم کیا: ’’کسی صحیح ارادے کے بغیر ظالموں کے پاس جانابلکہ ان کی مدد یاعزَّت کرنا یا ان سے محبت کرنا۔‘‘
پانچویں گناہ کے متعلق حضرت سیِّدُنا امام شہاب الدین اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) نے ارشاد فرمایا:’’ظالم بادشاہ کے پاس محض ناجائز شکایت کرنے کو کبیرہ گناہ قرار دینا مشکل ہے جبکہ اس سے پیدا ہونے والا گناہ صغیرہ ہو۔ البتہ! اگر یوں کہا جائے کہ یہ اس وقت کبیرہ بن جاتا ہے جب اس کے ساتھ کوئی دوسری چیز مل جائے مثلاً جس کی شکایت کی جا ئے اس پر دباؤ ڈالا جائے یا اس کے گھر والوں پر رعب طاری کیا جائے یا بادشاہ کے بلاوے کی وجہ سے انہیں ڈرایا جائے تو یہ کبیرہ گناہ بن جائے گا۔‘‘ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے حضرت سیِّدُنا حلیمی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کا گزشتہ کلام ذکر کیا جو قاتل کی مدد کرنے اور مقتول پر اس کی رہنمائی کرنے کے متعلق ہے اور ارشاد فرمایا: ’’بلاشبہ یہ کلام اس بات کاتقاضا نہیں کرتا کہ ظالم بادشاہ کو ناجائزشکایت کرنا کبیرہ گناہ نہیں۔‘‘
پہلے بیان ہوچکا ہے کہ حضرت سیِّدُنا حلیمی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کا یہ کلام رد کر دیا گیا ہے اور قابلِ اعتماد نہیں اور یہ جس بات کا تقاضا کرتا ہے اس کی طرف نہیں دیکھا جائے گا۔ پس صحیح یہی ہے کہ ظالم بادشاہ کو ناجائزشکایت کرنا کبیرہ گناہ ہے کیونکہ یہ چغلی ہے بلکہ چغلی کی انتہائی بری قسم ہے اور چغلی کو کبیرہ قرار دینا صحیح حدیث ِ پاک سے ثابت ہے، پھر جیسا کہ میں نے عنوان میں ذکر کیا، اس سے مرادیہ ہے کہ چھٹکارا پانے کے لئے بادشاہ یادیگر حکام کو ناجائزشکایت کرنا اور جس صورت میں قاضی کی گواہی ضروری ہوتی ہے وہ اس میں شامل نہیں بلکہ اس میں معاملہ حاکم تک پہنچانا ضروری ہے سوائے یہ کہ کوئی عذر ہو۔
حضرت سیِّدُناقَمُوْلِیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی ’’اَلْجَوَاھِر‘‘ میں چغلی کے متعلق حضرت سیِّدُنا امام یحییٰ بن شرف نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۶۷۶ھ) کے حوالے سے فرماتے
ہیں : ’’اگر کوئی شرعی مصلحت ہو توچغلی ممنوع نہیں جیسا کہ جب ایک آدمی کسی کو
خبر دیتا ہے کہ فلاں شخص اس کو،اس کے گھر والوں یا مال کو ہلاک کرنا چاہتا ہے یا
کوئی شخص امیر یا حاکم کو بتاتا ہے کہ فلاں فساد والے کام کرتا ہے(توایسی چغلی منع نہیں ) اور ایسی صورت میں حاکم پر واجب ہے کہ اس کی تفتیش وازالہ کرے،اس کی
مثل تمام صورتوں میں چغلی ممنوع نہیں بلکہ موقع کی مناسبت سے کبھی واجب ہوتی ہے
اور کبھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع