30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کبیرہ نمبر346: بادشاہ،قاضی وغیرہ کامسلمان یا ذمی پرظلم کرنا
مثلاً اُن کا مال کھانا،انہیں مارنا یا گالی د ینا وغیرہ
کبیرہ نمبر347: مظلوم کو ذ لیل کرنا
کبیرہ نمبر348: ظالموں کے پا س جانا
کبیرہ نمبر349: ظلم پران کی مد د کرنا
کبیرہ نمبر350: بادشاہ وغیرہ کو ناجائزشکا یت کرنا
اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ مجید، فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے: وَلَا تَحْسَبَنَّ اللہَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوۡنَ ۬ؕ اِنَّمَا یُؤَخِّرُہُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیۡہِ الۡاَبْصَارُ ﴿ۙ۴۲﴾(پ۱۳، ابراہیم:۴۲)
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہر گز اللہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے انہیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لئے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔
وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۲۲۷﴾٪(پ۱۹، الشعراء:۲۲۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔
وَلَا تَرْکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۙ وَمَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾(پ۱۲، ھود:۱۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حمایتی نہیں پھر مدد نہ پاؤ گے۔
’’کسی چیز کی طرف جھکاؤ‘‘سے مراد سکون حاصل کرنا اور محبت کے ساتھ
اس کی طرف مائل ہونا ہے۔ اسی وجہ سے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اس آیت ِ مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’محبت و مودّت اور نرم
گفتگو کے ذریعے ان کی طرف مکمل طورپرمائل نہ ہو جاؤ۔‘‘حضرت سیِّدُناسدی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اور حضرت سیِّدُنا ابن زیدرَحْمَۃُ
اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہفرماتے ہیں : ’’ان کو
ظاہری طور پر خوش نہ کرو۔‘‘حضرت سیِّدُنا عکرمہ رَحْمَۃُ
اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ فرماتے ہیں :’’نہ
ان کی پیروی کرواورنہ ہی ان سے محبت کرو۔ ‘‘ حضرت سیِّدُنا ابوعالیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ فرماتے ہیں :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع