30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَنْہ واپس لوٹ آئے تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دریافت فرمایا:’’کیا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نہیں گئے؟‘‘ انہوں نے عرض کی: ’’کیوں نہیں ، لیکن میں نے حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوف رَّحیمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ایک حدیث ِ پاک سن رکھی ہے میں نے پسند کیا کہ آپ سے بیان کر دوں ، مجھے اندیشہ ہے کہ اس کے بعد میری آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ملاقات نہ ہوسکے گی ( وہ حدیث ِپاک یہ ہے:) میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّکے رسول صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا: ’’اے لوگو! تم پر جو کوئی کسی کام کا والی بنایا گیا اور اس نے اپنادروازہ حاجت مندوں پر بند کر دیا۔‘‘ یا پھر یہ ارشاد فرمایا:’’مسلمانوں کی حاجتوں پر بند کر دیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر جنت کے دروازے سے داخلہ بند فرما دے گا اور جس کامقصد دُنیا ہو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر میرا پڑوس حرام فرما دے گا کیونکہ میں دُنیا کو ویران کرنے (یعنی اس سے بے رغبتی دِلانے) کے لئے بھیجا گیا ہوں اور اسے آباد (یعنی حاصل) کرنے کے لئے نہیں بھیجا گیا۔‘‘ (۱)
تنبیہ:
مذکورہ تینوں گناہوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا ان صحیح احادیث ِ مبارکہ کی صراحت سے واضح ہے اگرچہ میں نے کسی کو انہیں کبیرہ گناہ شمار کرتے ہوئے نہیں پایا اور میرا عنوان میں ’’حوائج‘‘ کی قید لگانا بھی واضح ہے کہ احادیث ِ مبارکہ میں مطلق حوائج سے یہی مراد ہے۔ البتہ! بعض احادیث ِ مبارکہ میں مسکین اور مظلوم سے تعبیر کرکے اسی قید کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُنا جلال بلقینی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِینے خیانت کے متعلق میرے ذکرکردہ مؤقِّف کے موافق ذکر کیا اور فرمایا: ساٹھواں کبیرہ گناہ ’’حکمرانوں کارعایا سے دھوکاکرنا‘‘ہے۔ کیونکہ بخاری ومسلم کی حدیث ِ پاک میں ہے: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ جس بندے کورعایا کا نگران بنائے اور وہ اپنی رعایا سے خیانت کرتے ہوئے مر جائے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر جنت حرام فرما دیتا ہے۔‘‘(۲)
پھر میں نے دیگر علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا کلام دیکھا کہ انہوں نے بھی حکَّام کے ظلم، رعایا کے ساتھ ان کے دھوکے اور حاجت مندوں اور مسکینوں کی حاجتیں پوری نہ کرنے کا ذکر کیا۔
۞۞۞۞۞۞۞
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الکبیر،الحدیث:۷۶۵،ج۲۲،ص۳۰۱۔
2…صحیح مسلم ،کتاب الایمان ،باب استحقاق الوالی الغاش لرعیتہ النار، الحدیث:۳۶۳،ص۷۰۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع