30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نزدیک مرتبہ کے لحاظ سے سب سے بہتر عدل اور نرمی کرنے والا حاکم ہو گا اور قیامت کے دِن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک مرتبہ کے اعتبار سے سب سے بدترظلم کرنے والا بد اخلاق حاکم ہو گا۔‘‘ (۱)
ظالم قاضی، شیطان کا ساتھی:
{16}…حضورنبی ٔمُکَرَّم،نُورِ مجسَّمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ قاضی (یعنی فیصلہ کرنے والے) کے ساتھ ہوتا ہے جب تک کہ وہ ظلم نہ کرے۔ جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے چھوڑ دیتا ہے اور شیطان اسے پکڑ لیتا ہے۔‘‘(۲)
{17}…حاکم کی روایت میں ہے کہ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے بری ہو جاتا ہے۔‘‘ (۳)
ظالم قاضی ، جہنم کے نچلے درجہ میں :
{18}… رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’قیامت کے دن قاضی کو لایا جائے گا اور اسے حساب کے لئے جہنم کے کنارے کھڑا کر دیا جائے گا، اگر اسے جہنم میں گرانے کا حکم دیا گیا تو وہ 70 سال اس میں گرتا رہے گا۔‘‘(۴)
{19}… حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا بشر بن عاصم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بیان فرمایاکہ انہوں نے حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ ارشاد فرماتے سنا: ’’جو بھی شخص لوگوں کے کسی معاملے کا والی بنتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے جہنم کے پُل پر کھڑا کرے گا، پل اُس (کے بوجھ) سے کانپنے لگے گا، پھر یا تو وہ نجات پانے والا ہو گا یا نہیں ، پھراس کی ہر ہڈی دوسری سے جدا ہو جائے گی، اگر اس نے نجات نہ پائی تو اسے جہنم میں قبرجیسے تاریک کنوئیں میں لے جایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الاوسط،الحدیث:۳۴۸،ج۱،ص۱۱۲، بتغیرٍقلیلٍ۔
2…جامع الترمذی، ابواب الاحکام، باب ماجاء فی الامام العادل، الحدیث:۱۳۳۰،ص۱۷۸۵۔
3…المستدرک ، کتاب الاحکام ،باب ان اﷲمع القاضی مالم یجر ،الحدیث:۷۱۰۸،ج۵،ص۱۲۷۔
4…البحرالزخارالمعروف
بمسند البزار، مسند عبد اﷲبن مسعود، الحدیث:۱۹۳۹،ج۵،ص۳۲۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع