30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انسان کی بے عزتی کرنے سے وہ ایسی ہی تکلیف محسوس کرتا ہے جیسا کہ اس کا گوشت کاٹ کر کھانے سے اس کا بدن درد محسوس کرتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ کیونکہ عقل مند کے نزدیک اس کی عزت اس کے خون اور گوشت سے زیادہ قیمتی ہے۔ عقل مند انسان جس طرح لوگوں کا گوشت کھانا اچھا نہیں سمجھتا اسی طرح ان کی عزت پامال کرنا بدرجۂ اولیٰ اچھا تصور نہیں کرتا کیونکہ یہ ایک تکلیف دِہ امر ہے اور پھر اپنے بھائی کا گوشت کھانے کی تاکید لگانے کی وجہ یہ ہے کہ کسی کے لئے اپنے بھائی کا گوشت کھانا تو دور کی بات ہے چبانا بھی ممکن نہیں ہوتا لیکن دُشمن کا معاملہ اس کے برعکس ہے کیونکہ بعض اوقات انسان اپنے سخت دشمن کا گوشت بغیر کسی توقف کے کھا جاتا ہے۔
اعتراض:کسی کے سامنے اس کے عیب بیان کرنا حرام ہے کیونکہ اس سے اسی وقت تکلیف ہوتی ہے جبکہ عدم موجودگی میں غیبت کرنے سے اسے اس کی اطلاع نہیں ہوتی جس کی غیبت کی گئی ہے۔
جواب:اس کا ایک جواب یہ ہے کہ مَیۡتًا کی قید سے یہ اعتراض خود بخود ختم ہو جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے اس کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی، اگرچہ یہ انتہائی پست اور برا فعل ہے۔ لیکن بالفرض اگر وہ مردہ جان لے تو اسے ضرور تکلیف ہو کیونکہ میت کو اگر اپنا گوشت کھانے کا احساس ہو جائے تو اسے بھی ضرور تکلیف ہو گی۔ اسی طرح کسی کی غیر موجودگی میں اس کے عیب بیان کرنا بھی حرام ہے کیونکہ جس کی غیبت کی گئی اگر اسے اطلاع ہو جائے تو اُسے بھی تکلیف ہوگی۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ عزت جس طرح بندے کا اپنا حق ہے اس طرح اللہ عَزَّوَجَلَّکا بھی تاکیدی حق ہے ۔ اب اگر بالفرض جس کی غیبت کی جائے اسے اطلاع ہونا ممکن نہیں تو پھر بھی اللہ عَزَّوَجَلَّکے حق کی رعایت کرنے اور لوگوں کی عزتوں پرہاتھ ڈالنے سے روکنے اور غم کی وجوہات میں سے کسی وجہ میں پڑنے سے بچنے کے لئے یہ حرام ہی ہے۔ سوائے چند اسباب کے، کیونکہ وہاں ضرورت کا مقام ہے۔پس ضرورت کی وجہ سے اس وقت غیبت مباح ہو گی۔ جیساکہ آیت ِکریمہ نے’’مَیۡتًا‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے اس کی طرف اشارہ کیاہے کیونکہ مردار کا گوشت کھانا (جبکہ جان جانے کا خطرہ ہو تو )ضرورتاً جائز ہے یہاں تک کہ اگر مجبور شخص (جس کی جان جانے کا خطرہ ہو) مردار آدمی کے ساتھ مردار جانور پائے تو اس کے لئے مردار آدمی کھانا جائز نہیں مگر جب صرف مردار آدمی ہی پائے تو اسے کھا سکتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع