30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا: ’’کیا ہوا، جلدی چلو؟‘‘ میں نے عرض کی:’’آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ابھی کچھ ارشاد فرمایا ہے۔‘‘ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’تو تجھے کیا ہوا؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ پر افسوس فرمایا ہے۔‘‘ ارشاد فرمایا:’’نہیں ، بلکہ وہ تو فلاں شخص ہے جسے میں نے بنی فلاں کے پاس صدقہ لینے کے لئے بھیجا اور اس نے ایک دھاری دار چا در چرا لی، بالآخر ویسا ہی آگ کا کرتہ اُسے (قبر میں ) پہنادیا گیا۔‘‘ (۱)
تنبیہ:ان تینوں کو کبیرہ گناہوں میں شما ر کرنا مذکورہ صحیح احادیث ِ مبارکہ سے واضح ہے اور یہ ظاہر ہے، البتہ! میں نے کسی کو اسے ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا اگرچہ یہ احادیث مطلق ہیں لیکن یہ دیگر قرائن اور احادیث کی رو سے ہمارے ذکر کردہ کلام پر محمول ہیں۔
۞۞۞۞۞۞۞
کبیرہ نمبر341: ظالم یا فا سق کومسلما نوں کے معاملات کا والی
بنا نا
اقربا کو حکومتی عہدوں سے نوازنے پر وعید:
{1}… حضرت سیِّدُنا یزید بن ابوسفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ جب امیر المومنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے شام بھیجا تو ارشاد فرمایا: اے یزید! تمہاری قریبی رشتہ داریاں ہیں ، ہوسکتاہے تم امارت میں انہیں ترجیح دو اور شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس ارشادکے بعدمجھے تم پر سب سے زیادہ خوف اسی چیز کا ہے (اوروہ ارشاد یہ ہے:) ’’جو مسلمانوں کے کسی معاملے کا والی بنا پھر اپنے کسی قرابت دار کو ان پر امیر بنایا تو اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی لعنت ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے نفل قبول فرمائے گا نہ فرض یہاں تک کہ اسے جہنم میں داخل کر دے گا۔‘‘ (۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن النسائی،کتاب الامامۃ ،باب الاسراع الی الصلاۃ من غیر سعی ،الحدیث:۸۶۳،ص۲۱۴۲۔
2…المسند
للامام احمد بن حنبل،مسند ابی بکر الصدیق ، الحدیث:۲۱،ج۱،ص۲۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع