30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لگائے۔ چنانچہ، اس نے تہمت لگائی۔ اس پر آپ عَلَـــیْہِ السَّلَام نے اس عورت سے قسم لی تو اس نے بتایا کہ قارون نے مجھے اِس پر اکسایا تھا۔ آپعَلَـــیْہِ السَّلَام جلال میں آ گئے اور اُسے بددُعا دی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے وحی فرمائی: ’’میں نے زمین کو تیری اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے پس تو اسے حکم دے۔‘‘ آپ عَلَـــیْہِ السَّلَام نے زمین کو حکم فرمایا:’’اے زمین! اسے پکڑ لے۔‘‘ تو زمین نے اسے پکڑ لیا یہاں تک کہ اس کا تخت غائب ہو گیا۔ جب قارون نے یہ دیکھا تو آپ عَلَـــیْہِ السَّلَام سے رحم کی درخواست کی لیکن آپ عَلَـــیْہِ السَّلَام نے زمین کو دوبارہ فرمایا:’’اے زمین! اسے پکڑ لے۔‘‘ تو زمین نے اسے پکڑ لیا یہاں تک کہ اس کے دونوں قدم غائب ہو گئے لیکن آپعَلَـــیْہِ السَّلَام لگاتار فرماتے رہے: ’’اے زمین! اسے پکڑ لے۔‘‘ یہاں تک کہ زمین نے اسے بالکل غائب کر دیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ عَلَـــیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی:’’اے موسیٰ! مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! اگر قارون مجھ سے مدد طلب کرتا تو میں ضرور اس کی مدد کر دیتا۔‘‘ پس زمین نے اسے سب سے نچلی زمین کی طرف دھنسا دیا۔
حضرت سیِّدُنا سَمُرَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :’’قارون ہر روز انسان کے قد جتنا دھنسایا جاتا ہے۔‘‘
جب اسے دھنسا دیا گیا تو یہ کہا جانے لگا کہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اس کے مال واسباب اور گھر پر قبضہ جمانے کے لئے ا س کو ہلاک کر دیا، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے 3 دن بعد اس کے مال واسباب اور گھر کو بھی دھنسا دیا۔
قارون کی بغاوت سے مراد اُس کا تکبر ہے۔ایک قول یہ ہے کہ اس کا کفر ہے۔ایک قول کے مطابق اس کے کپڑوں کے ایک بالشت لمبے ہونے کی وجہ سے یہ کہا گیا جبکہ ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ فرعون کا خادم تھا اس نے بنی اسرائیل پر ظلم اور زیادتی کی تھی۔
تنبیہ:
بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی تصریح کے مطابق اِسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے لیکن انہوں نے مطلقًا بغاوت کو کبیرہ گناہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ’’پچاسواں کبیرہ گناہ بغاوت ہے۔‘‘ حالانکہ یہ ایک مشکل امر ہے۔ ہمارے شافعی ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’بے شک بغاوت مذمت کا نام نہیں کیونکہ باغی فاسق نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع