30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پہاڑ سے بغاوت کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ باغی کو ٹکڑے ٹکڑے فرما دے۔‘‘ (۱)
جب قارون لعین نے اپنی قوم پر سرکشی و زیادتی کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُسے زمین میں دھنسا دیا جیسا کہ قرآن پاک میں اس کے متعلق خبر دی :
اِنَّ قَارُوۡنَ کَانَ مِنۡ قَوْمِ مُوۡسٰی فَبَغٰی عَلَیۡہِمْ ۪ وَ اٰتَیۡنٰہُ مِنَ الْکُنُوۡزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَہٗ لَتَنُوۡٓاُ بِالْعُصْبَۃِ اُولِی الْقُوَّۃِ ٭ اِذْ قَالَ لَہٗ قَوْمُہٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیۡنَ ﴿۷۶﴾ وَ ابْتَغِ فِیۡمَاۤ اٰتٰىکَ اللہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ وَ لَا تَنۡسَ نَصِیۡبَکَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنۡ کَمَاۤ اَحْسَنَ اللہُ اِلَیۡکَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ ؕ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیۡنَ ﴿۷۷﴾ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِیۡتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنۡدِیۡ ؕ اَوَلَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللہَ قَدْ اَہۡلَکَ مِنۡ قَبْلِہٖ مِنَ القُرُوۡنِ مَنْ ہُوَ اَشَدُّ مِنْہُ قُوَّۃً وَّ اَکْثَرُ جَمْعًا ؕ وَلَا یُسْـَٔلُ عَنۡ ذُنُوۡبِہِمُ الْمُجْرِمُوۡنَ ﴿۷۸﴾ فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ فِیۡ زِیۡنَتِہٖ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ یُرِیۡدُوۡنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنیَا یٰلَیۡتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوۡتِیَ قٰرُوۡنُ ۙ اِنَّہٗ لَذُوۡحَظٍّ عَظِیۡمٍ ﴿۷۹﴾ وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ وَیۡلَکُمْ ثَوَابُ اللہِ خَیۡرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صٰلِحًا ۚ وَلَا یُلَقّٰىہَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوۡنَ ﴿۸۰﴾ فَخَسَفْنَا بِہٖ وَ بِدَارِہِ الْاَرْضَ ۟(پ۲۰،القصص۷۶ تا۸۱)
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک قارون موسیٰ کی قوم سے تھا پھر اس نے ان پر زیادتی کی اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے جن کی کنجیاں ایک زورآور جماعت پر بھاری تھیں ، جب اس سے اس کی قوم نے کہا اِترا نہیں ،بے شک اللہ اِترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا اور جو مال تجھے اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کر جیسا اللہ نے تجھ پر احسان کیا اور زمین میں فساد نہ چاہ، بے شک اللہ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔ بولا: یہ تو مجھے ایک علم سے ملا جو میرے پاس ہے اور کیا اسے یہ نہیں معلوم کہ اللہ نے اس سے پہلے وہ سنگتیں (قومیں ) ہلاک فرما دیں جن کی قوتیں اس سے سخت تھیں اور جمع اس سے زیادہ اور مجرموں سے ان کے گناہوں کی پُوچھ نہیں تو اپنی قوم پر نکلا اپنی آرائش میں ، بولے وہ جو دنیا کی زندگی چاہتے ہیں کسی طرح ہم کو بھی ایسا ملتا جیسا قارون کوملا، بے شک اس کا بڑا نصیب ہے اور بولے وہ جنہیں علم دیا گیا خرابی ہو تمہاری! اللہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لیے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے اور یہ انھیں کو ملتا ہے جو صبر والے ہیں تو ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا۔
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :قارون کی بغاوت یہ تھی کہ اس نے ایک فاحشہ کی اُجرت مقرر کی کہ وہ ہر برائی سے منزّہ ومبرّہ ذات حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر زنا کی تہمت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…شعب الایمان للبیھقی،باب فی تحریم اعراض الناس، الحدیث:۶۶۹۳،ج۵،ص۲۹۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع