30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی عالمُ الغیب ہے اور اس پر اپنی مخلوق میں سے کسی کو آگاہ نہیں فرماتا سوائے اس کے جسے اپنی رسالت کے لئے پسند کر لے، وہ اپنے غیب میں سے جس پر چاہتا ہے، اپنے رسول کوآگاہ فرما دیتا ہے۔
ایک قول کے مطابق اِلَّا حرفِ استثناء کے بعد والا کلام استثنا منقطع ہے تو معنی یہ ہوگا: ’’مگر جسے اپنی رسالت کے لئے پسند فرماتا ہے اس کے آگے پیچھے (فرشتوں کا)پہرا مقرَّر فرما دیتا ہے۔‘‘
انبیاءے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کا علم غیب:
پہلا معنی ہی صحیح ہے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے انبیاءے کرام عَلَـــیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو مغیبات ِ کثیرہ (یعنی بے شمار غیبی باتوں) پر آگاہ فرمایا بلکہ اُن کا وارث بنایا مگر وہ مغیباتِ کثیرہ علمِ الٰہی کے مقابلہ میں جزئیات ِقلیلہ(یعنی تھوڑی سی جزئیات) ہیں ، مطلق طور پر کلی و جزئی مغیبات کے علم میں اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی منفرد ہے(۱)۔
{1}…حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’جس نے بدشگونی کی یا اس کے لئے بدشگونی کی گئی یا جس نے کہانت کی یا جس کے لئے کہانت کی گئی یا جس نے جادو کیا یاجس کے لئے جادو کیا گیا اور جو کاہن کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی تو اس نے اس کا انکار کیاجو(مجھ) محمد پر نازل کیا گیا۔‘‘ (۲)
{2}… سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ حقیقت نشان ہے:’’جو کسی کاہن کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی تو وہ اس سے بری ہو گیا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے(مجھ) محمد پر نازل فرمایا اور جو کاہن کے پاس گیا مگر اس کی تصدیق نہ کی تو اس کی 40 راتوں کی نمازقبول نہیں کی جاتی۔‘‘ (۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1… اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت، مجدّ ِدِ اعظم، امام احمد رضا خان عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنعلومِ انبیا ومرسلین عَلَـــیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے متعلق اہلِ سنت وجماعت کا عقیدہ بیان فرماتے ہیں : ’’ بلاشبہ حق یہی ہے کہ تمام انبیاء ومرسلین وملائکہ مقربین واوّلین وآخرین کے مجموعۂ علوم مل کر علمِ باریعَزَّوَجَلَّ سے وہ نسبت نہیں رکھ سکتے جو ایک بُوند کے کروڑویں حصہ کو کروڑوں سمندروں سے ہے۔ ‘‘(فتاویٰ رضویہ ،ج۱۴،ص۳۷۷)
2…البحرالزخارالمعروف بمسند البزار،مسند عمران بن حصین،الحدیث:۳۵۷۸،ج۹،ص۵۲۔
3…المعجم
الاوسط،الحدیث:۶۶۷۰،ج۵،ص۸۷،’’لیلۃً‘‘بدلہ’’یوماً‘‘۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع